پاکستان

بھارت کے ساتھ جنگ میں کامیابی کے بعد پاکستانی ہتھیاروںکی عالمی مانگ میں اضافہ

اسلام آباد:گزشتہ برس مئی میں بھارت کے ساتھ چار روزہ جنگ کے دوران پاکستان نے نہ صرف اپنے فوجی سازوسامان کی موثر صلاحیت ثابت کی اور جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیارہ، الخالد مین بیٹل ٹینک اور فتح سیریز گائیڈڈ ملٹی لانچ راکٹ سسٹم کی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جے ایف 17 تھنڈر نے بھارت کے ساتھ جھڑپوں کے دوران اپنی جنگی صلاحیت منوائی۔ ۔ جنگ میں اس طیارے کو بھارتی فضائیہ کے جدید ایس 400 زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نظام کو آدم پور میں تباہ کرنے کا کریڈٹ دیا گیا۔ جے ایف 17 نے دبئی ایئر شو میں بھی نمایاں کارکردگی دکھائی۔اسی ہفتے وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کی اسلحہ سازی کی صنعت کی کامیابی ملکی معیشت کا رخ بدل سکتی ہے۔ انہوں نے ایک نجی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے طیارے جنگ میں آزمائے جا چکے ہیں اور اتنے آرڈرز مل رہے ہیں کہ پاکستان کو چھ ماہ میں آئی ایم ایف کی ضرورت نہ پڑے۔عراقی فضائیہ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل مہند غالب محمد راضی الاسدی نے پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کے دورہ عراق کے دوران ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے مئی میں بھارت کے خلاف پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کے حصول میں دلچسپی کا اظہار کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق عراقی فضائیہ کے سربراہ نے پاک فضائیہ کی عالمی معیار کی تربیت سے فائدہ اٹھانے اور جے ایف 17 تھنڈر اور سپر مشاق تربیتی طیاروں میں خصوصی دلچسپی ظاہر کی۔سعودی عرب کے ساتھ بھی قرضوں کے بدلے جے ایف 17 کا معاہدہ زیر غور ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تقریبا 2 ارب ڈالر کے سعودی قرضوں کو جے ایف 17 لڑاکا طیاروں کے معاہدے میں تبدیل کرنے پر بات چیت جاری ہے۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق مجموعی معاہدے کی مالیت 4 ارب ڈالر ہو سکتی ہے، جس میں اضافی دفاعی سازوسامان بھی شامل ہوگا۔ بنگلہ دیش نے بھی جے ایف 17 خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔پاکستان اور بنگلہ دیش کی فضائیہ کے سربراہان کے درمیان جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی ممکنہ خریداری پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے بنگلہ دیشی ہم منصب کو پاک فضائیہ کی حالیہ پیش رفت سے آگاہ کیا اور تربیت و تکنیکی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔پاکستان نے لیبیا کو روایتی فوجی سازوسامان کی فروخت کے لیے اربوں ڈالر کا معاہدہ طے کیا۔ رائٹرز کے مطابق اس معاہدے میں جے ایف 17 لڑاکا طیاروں اور سپر مشاق تربیتی طیاروں کی فروخت بھی شامل ہے۔ایک پاکستانی عہدیدار کے مطابق یہ معاہدہ زمینی، بحری اور فضائی سازوسامان پر مشتمل ہے اور ڈھائی برس میں مکمل ہوگا۔چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر نے گزشتہ برس 18 دسمبر کو لیبیا میں لیبیائی عرب مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف خلیفہ بلقاسم حفتر سے ملاقات کی۔ یہ معاہدے اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کی دفاعی صنعت تیزی سے عالمی سطح پر اپنی شناخت بنا رہی ہے اور جے ایف 17 تھنڈر اس کامیابی کا مرکزی ستون بنتا جا رہا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button