مقبوضہ جموں و کشمیر

گاندربل کے جعلی مقابلے نے ماورائے عدالت قتل اور ادارہ جاتی استثنیٰٰ پرنئی بحث چھیڑ دی

سرینگر: گاندربل میں حال ہی میں جعلی مقابلے کے دوران ایک کشمیری نوجوان کی شہادت نے ایک بار پھرمقبوضہ جموں وکشمیرمیں جعلی مقابلوں کی سنگینی کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے اوربھارتی فورسز کی طرف سے ماورائے عدالت قتل اور ادارہ جاتی استثنیٰٰ پرنئی بحث چھیڑ دی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی فورسز نے 31مارچ کی شب گاندربل کے علاقے ارہامہ میں محاصرے اورتلاشی کی ایک کارروائی کے دوران جعلی مقابلے کا ڈرامہ رچاکر 29سالہ نوجوان رشید احمد مغل کو شہید کیا تھا۔ بھارتی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس آپریشن میں ایک دہشت گردکو ہلاک کر دیا گیا ہے تاہم مقتول کے اہل خانہ اور مقامی باشندوں نے دوٹوک الفاظ میں حکومتی موقف کو مستردکرتے ہوئے کہا کہ اس کا عسکریت پسندی سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ وہ ایک بے گناہ شہری تھا۔اہل خانہ نے بتایا کہ رشید صبح گھر سے نکلا لیکن واپس نہیں آیا اور بعد میں اے ٹی ایم کارڈ کے ذریعے اس کی لاش کی شناخت ہوئی۔ ان کا کہناہے کہ اسے گرفتارکرکے بہیمانہ طریقے سے قتل کیاگیا۔ انہوںنے کہاکہ اس کالباس تبدیل کیا گیاتھا اور مسلح سرگرمیوں میںملوث ہونے سے متعلق اس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔لواحقین نے حقائق کو منظر عام پر لانے کے لیے شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔اس واقعے نے پوری وادی کشمیر میں بڑے پیمانے پر غم و غصے کو جنم دیا ہے، سول سوسائٹی کے ارکان،علمائے دین اور سیاسی شخصیات نے جوابدہی کا مطالبہ کیا ہے۔ ےہاں تک کہقابض حکام نے قتل کی مجسٹریل انکوائری کا حکم دیا ہے، تاہم ماضی کے تجربات کے باعث کشمیری انصاف کے امکانات کے حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ گاندربل کا جعلی مقابلہ کوئی پہلاواقعہ نہیں ہے بلکہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پیش آنے والے واقعات کا تسلسل ہے جن میں پتھریبل (2000)، مژھل (2010)، شوپیان (2020) اور حیدر پورہ (2021) کے واقعات شامل ہیں۔ ان میں بے گناہ شہریوں کو قتل کرکے عسکریت پسند قرار دیا گیاتھا۔ یہ کیسز یا تو بغیر جوابدہی کے ختم ہو گئے اوراگرکسی کیس میں سزاہوبھی گئی توان کو ختم کردیاگیا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA) جیسے کالے قوانین نے بھارتی فورسز کو وسیع اختیارات اور قانونی تحفظ دے کر استثنیٰ کے کلچر کو فروغ دینے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک ایسے قوانین کو ختم نہیں کیا جاتا اور آزاد عدالتی نظام کو یقینی نہیں بنایا جاتا، گاندربل جیسے واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔ کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سمیت سیاسی رہنماو¿ں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ متاثرہ خاندان کے دعوے کو مسترد نہیں کیا جانا چاہیے اور تحقیقات میں تاخیر یا اسے کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش سے ساکھ کو مزید نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے تحقیقات کے نتائج کو منظرعام پر لانے اور ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا ہے۔اس طرح کے واقعات کے بار بار پیش آنے سے مقامی آبادی میں خوف اور غیر یقینی کی فضا پیدا ہو گئی ہے جو ان جعلی مقابلوں کو بھارتی ظلم و جبر کا حصہ سمجھتے ہیں۔ گاندربل میںقتل کے اس واقعے سے ایک بار پھر علاقے میں انصاف، شفافیت اور تشدد کے خاتمے کی فوری ضرورت اجاگر ہوتی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button