قابض حکام نے مزید دو کشمیری ملازمین کو برطرف کردیا
سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی زیر قیادت انتظامیہ نے آزادی پسند تنظیموں سے روابط رکھنے کے الزام پرمزید دو کشمیری ملازمین کو برطرف کر دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قابض حکام نے رام بن اور بانڈی پورہ اضلاع میں محکمہ تعلیم میں درجہ چہارم کے ملازم فرحت علی کھانڈے اور محکمہ دیہی ترقی کے ملازم محمد شفیع ڈار کو ملازمت سے برطرف کر دیا۔انتہائی بدعنوان، فرقہ پرست اورکشمیر دشمن لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اپنے حکمنامے میں ان کی برطرفی کو بھارتی سلامتی کے مفاد میں قرار دیاہے۔ 2019 میں علاقے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے بی جے پی حکومت نے 500 سے زائد کشمیری مسلمان ملازمین کو اسی طرح کے الزامات پر برطرف کیا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ کشمیری مسلمان ملازمین کو چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ قابض حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی انتظامیہ کی جانب سے سرکاری اداروں میں آزادی پسند لوگوں اوران کے ہمدردوں کے خلاف جاری کارروائی کا حصہ ہے۔






