ارشد میر
پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔ اگر چہ بھارت نے اس کے نتیجے میں سوائے “سو جوتے اور سو پیاز” کے کچھ حاصل نہ کیا۔ تاہم اس واقعے کے بعد بھارتی ریاستی بیانیہ، سیکیورٹی اقدامات اور سیاسی حکمتِ عملی سے جڑے سوالات آج بھی جواب طلب ہیں، جبکہ زمینی حقائق اور سرکاری دعوؤں کے درمیان خلیج مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔
واقعے کے فوراً بعد بھارتی فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا۔ وادی کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں افراد، خصوصاً پہلگام کے چرواہوں اور دیہی آبادی کو حراست میں لیا گیا۔ صورتحال اس حد تک بگڑ گئی کہ کئی دیہات کے رہائشی گرفتاریوں اور چھاپوں کے خوف سے اپنے گھر چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔
اسی دوران پہلگام اور گردونواح میں متعدد گھروں کو تباہ کرکے کہا گیا کہ یہ اُن عسکریت پسندوں کے گھر تھے جنھوں نے بائسرن پہلگام میں 26 بھارتی سیاحوں کو قتل کیا۔ اس کے بعد 6 مئی کو پاکستان اور آزاد کشمیر پر جارحیت کی گئی جس میں متعدد بچوں اور خواتین سمیت 45 افراد شہید اور چار مساجد سمیت متعدد گھرتباہ ہوئے اسکے علاوہ کنٹرول لائن کے تمام سیکٹرز میں شہری آبادی پر شدید گولہ باری شروع کی گئی۔ پاکستان نے اس اعلان کہ جارحیت کا جواب دس گنا زیادہ شدت سے دیا جائے گا کے عین مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر اور پنجاب سے لیکر راجستھان تک بھارت کے 26 حساس مقامات کو کامیابی سے نشانہ بنایا، روسی ساخت ایس 400 دفاعی نظام کی چار میں سے تین بیٹریز کو تباہ اور فضائی جنگ میں بھارت کے تین رفال اور ایک UAV سمیت 7 طیارے مار گرائے جن کا ملبہ، کوکر ناگ، پامپور، اکھنور، بھٹنڈا، رام بن، امبالہ اور برنالہ کے مقامات پر گرا۔ اسکے علاوہ پاک فوج نے کنٹرول لائن پر متعدد بھارتی چوکیوں کو تباہ کیا یہاں تک کہ بھارتی فوج سفید جھنڈے لہرانے اور بھارتی حکومت امریکہ ، سعودی عرب اور ترکی وغیرہ سے پاکستان کو روکنے کی درخواست کرنے پر مجبور ہوئی۔ اس معرکہ حق میں پاکستان نے عسکری، سفارتی اور بیانئے کی سطحوں پر مکمل اور واضع فتح حاصل کی جس کی امریکی صدر سمیت دنیا بھر کے میڈیا ،دفاعی اداروں اور تجزیہ کاروں نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ نے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کردیا۔ بھارت وہ روائتی جنگی صلاحیت کی برتری کا زعم بھی کھو بیٹھا جس کی بنیاد پر وہ BULYING یا بدمعاشی کرتا چلا آرہا تھا۔مودی داخلی مسائل میں گرفتار پاکستان کو زیر کرنا چاہتے تھے مگر الٹا وہ ایک نئے، توانا، پر عزم ، بااعتباراور باوقار پاکستان کے طور پر ابھرا اور ساتھ ہی وہ سوالات بدستور مودی سرکار کا پیچھا کرنے لگے جو اس سے پہلگام واقع کے بارے میں داخلی اور خارجی سطحوں پر پوچھے جارہے تھے۔
بھارت کی حزب اختلاف نے طے کیا کہ وہ 28 جولائی 2025 کو پارلیمنٹ میں مودی سرکار سے ان تمام سوالات کے جوابات طلب کرے گی جو 22 اپریل سانحہ کے رونما ہونے کے بعد سے اسے پوچھے جارہے تھے کہ اگر کشمیر میں عسکریت کو شکست دینے کا دعویٰ ہے تو یہ واقع کیسے پیش آیا؟ کنٹرول لائن مکمل سیل اور فول پروف نگرانی میں ہے تو مبینہ عسکریت پسند کہاں سے درانداز ہوئے اور10 لاکھ فوج اور ہزاروں چوکیوں کو عبور کرکے وہ پہلگام کیسے پہنچے؟بائسرن کا جائے وقوعہ سے صرف چند روز پہلے ہی سکیورٹی دستہ کیوں ہٹایا گیا تھا؟ اسکے آس پاس ایک فوجی کیمپ اور پولیس چوکی سے سانحہ کے گھنٹوں بعد بھی کوئی وہاں کیوں نہ پہنچا ؟ ان کو کیوں خبر نہ ہوئی جبکہ کئی کلومیٹر زیریں علاقہ کے مقامی لوگوں کو معلوم ہوا اور وہ گھوڑوں اور خچروں کے ساتھ دشوار چڑھائی طے کرکے وہاں پہنچے اور باقی سیاحوں اور زخمیوں کو بلا معاوضہ منتقل کیا۔ گھنٹوں کے اس عمل میں کوئی حکومتی اہلکار، کوئی فوجی، پولیس والا اور کوئی طبی عملے کا اہلکار کیوں نہ پہنچا؟
عین اسی 28 جولائی کو اپوزیشن کے سوالات کے جوابات دینے سے پہلے ہی سرینگر کے بالائی داچھی گام کے علاقے میں تین افراد کو ایک جعلی مقابلہ میں شہید کرکے انھیں سانحہ پہلگام کے ذمہ دار قرار دیا گیا اور امیت شاہ نے ایون کی کاروائی روک کر پرچی پر لکھا یہی اعلان پہلے پڑھ لیا۔ اس دعوے کے حق میں کوئی آزادانہ یا بین الاقوامی تصدیق پیش نہیں کی گئی ۔اسکے بعد اس معاملہ کو مکمل گول کردیا گیا ۔نہیں پوچھا گیااگر یہ افراد واقعی ذمہ دار تھے تو ان کے مبینہ جرائم کا ثبوت کیا ہے؟ ان کی شناخت کن معتبر ذرائع سے ہوئی؟ اور اگر وہی اصل ملزمان تھے تو پھر وہ افراد کون تھے جن کے گھروں کو پہلے جلا دیا گیا؟ کیا ریاست ان کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے یا یہ سب محض ایک غیر شفاف سیکیورٹی ردعمل تھا؟یہ پورا معاملہ ایک ایسے بیانیاتی فریم ورک میں جکڑا ہوا تھاجہاں حقیقت سے زیادہ سیاسی مفاد اور تاثر سازی کو ترجیح دی جاتی ہے۔
قابل غور ہے کہ جنوبی ایشیا کی سیاسی و سیکیورٹی حرکیات گزشتہ ایک دہائی میں جس تیزی سے تبدیل ہوئی ہیں وہ محض روایتی ریاستی پالیسیوں کا تسلسل نہیں بلکہ ایک ایسے نئے دور کا اظہار ہے جس میں اطلاعات، بیانیہ سازی اور میڈیا اسٹریٹجی روایتی جنگی اور سفارتی اوزاروں کے برابر اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ اس تناظر میں نریندر مودی کا بھارت ایک ایسے ماڈل کی طرف بڑھتا دکھائی دیتا ہے جسے ناقدین "اسٹیجڈ سیکیورٹی اسٹیٹ” یا "نظریاتی ریاستی تھیٹر” قرار دیتے ہیں جہاں سیکیورٹی واقعات، سیاسی مفادات اور میڈیا بیانیہ ایک دوسرے سے جڑ کر ایک پیچیدہ سیاسی ماحول تشکیل دیتے ہیں۔
اس پورے مباحثے کا مرکز تین باہم مربوط جہات ہیں: پہلا، بھارت کی سیکیورٹی پالیسی اور اس پر اٹھنے والے سوالات؛ دوسرا، مقبوضہ کشمیر میں جاری سیاسی و انسانی بحران اور اطلاعاتی جنگ اور تیسرا، پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی جس نے پورے خطے کو ایک غیر یقینی اور خطرناک توازن میں مبتلا کر دیا ہے۔
مودی حکومت کے دور میں بھارت کا سیکیورٹی بیانیہ بتدریج ایک ایسے ماڈل میں تبدیل ہوا ہے جس میں جعلی سکیورٹی بحران پیدا کرکےفوری طور پر اسےایک سیاسی اور میڈیا واقعہ بنایا جاتا ہے۔ پلوامہ سے لے کر پہلگام تک، متعدد واقعات ایسے انداز میں پیش کیے گئے ہیں جن میں بغیر کسی تحقیق و شواہد کے فوری طور پر ذمہ داری کا تعین کرکے پاکستان اور کشمیریوں پر الزامات عائد کئے گئے اور پروپیگنڈہ مشینوں کو ایندھن فراہم اور جعلی بحران پیدا کرکے پاکستان کے خلاف کیس قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔
اس طرزِ عمل نے ایک وسیع تر سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا یہ واقعات محض سیکیورٹی ناکامیاں ہیں یا ایک بڑے بیانیاتی فریم ورک کا حصہ، جس کا مقصد داخلی سیاسی استحکام اور عوامی جذبات کو ایک مخصوص سمت میں متحرک کرنا ہے؟ یہ عمل "کرائسس مینجمنٹ” سے آگے بڑھ کر "کرائسس گورننس” کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں بحران خود ایک حکومتی آلہ بن جاتا ہے۔
اس تصور کے تحت ہر واقعہ میڈیا Spectacle میں تبدیل ہو جاتا ہے، جو حکمران جماعت کے بیانیے کو تقویت دیتا ہے۔ اس عمل کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اندرونی اختلافی آوازیں، چاہے وہ سیاسی ہوں یا سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ سے متعلق، بتدریج حاشیے پر دھکیل دی جاتی ہیں۔ بھارت میں ایسے کئی رہنما اور پالیسی ساز، جنہوں نے حکومتی موقف سے اختلاف کیا، یا تو خاموش کر دیے گئے یا ان کی سیاسی حیثیت محدود کر دی گئی۔
بھارتی سیاسی نظام میں ایک نمایاں تبدیلی یہ ہے کہ تنقیدی آوازیں اب پہلے کی نسبت زیادہ دباؤ کا شکار ہیں۔ مختلف نظریاتی پس منظر رکھنے والے سیاست دان اور تجزیہ کار، خواہ وہ اقتصادی پالیسی پر سوال اٹھانے والے ہوں یا خارجہ امور پر اختلاف رکھنے والے، ایک مخصوص بیانیے سے ہٹنے کی صورت میں حاشیے پر چلے جاتے ہیں۔
یہ رجحان صرف سیاست تک محدود نہیں بلکہ سیکیورٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے بیانیے تک بھی پھیل چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایک ایسا ماحول پیدا ہوتا ہے جہاں ریاستی پالیسی پر حقیقی مباحث کمزور پڑ جاتے ہیں، اور ایک غالب بیانیہ ہی واحد “قابل قبول حقیقت” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر اس پورے بیانیاتی نظام کا سب سے حساس اور متنازع مرکز ہے جہاں سیکیورٹی واقعات کے ساتھ ساتھ اطلاعاتی جنگ بھی مسلسل جاری ہے۔ ایک طرف بھارتی ریاست اور اس سے منسلک ذرائع ابلاغ خصوصا گودی میڈیا ایک مخصوص بیانیہ پیش کرتے ہیں اور دوسری طرف انسانی حقوق کے کارکنان اور بین الاقوامی مبصرین ان دعوؤں کی شفافیت پر سوال اٹھاتے ہیں۔
تنقید کرنے والوں کے مطابق پہلگام جیسے واقعات کے بعد جو بیانیہ سامنے لایا جاتا ہے وہ اکثر غیر تصدیق شدہ معلومات اور انٹیلی جنس دعوؤں پر مبنی ہوتا ہے، جنہیں آزاد ذرائع سے ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، زمینی حقائق میں مقامی سطح پر بداعتمادی، سیاسی بے چینی اور انسانی حقوق کی صورتحال زیادہ پیچیدہ دکھائی دیتی ہے۔یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اطلاعاتی خلا خود ایک سیاسی ہتھیار بن جاتا ہے۔ جب شفافیت کم ہو تو افواہیں، قیاس آرائیاں اور متضاد بیانیے زیادہ طاقتور ہو جاتے ہیں جو پورے خطے میں عدم استحکام کو بڑھاتے ہیں۔
پہلگام واقعہ جنوبی ایشیا میں ایک جنگ کا نقطہ ثابت ہوا۔ بھارت کی جانب سے فوری طور پر پاکستان پر الزام عائد کیا گیا، جبکہ آزاد اور قابلِ تصدیق شواہد پیش نہیں کیے گئے۔ اس کے بعد کو کچھ ہوا اس نے خطے کی تذویراتی صورت ہی بدل دی۔پہلگام واقع کے بعد بھارت نے ایک اور سنگین حرکت کا ارتکاب کرکےپانی سے متعلق معاہدہ سندھ طاس یکطرفہ طور پر معطل کیا۔ اس اقدامات نے علاقائی استحکام کے بنیادی ڈھانچے کو مزید کمزور کیا۔ پانی جیسے بنیادی وسائل کو سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کرنا نہ صرف معاہداتی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ اس سے کروڑوں افراد کی زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ صورتحال جنوبی ایشیا کو ایک ایسے خطرناک مرحلے میں داخل کر رہی ہے جہاں روایتی جنگ کے ساتھ ساتھ "وسائل کی سیاست” بھی ایک نیا محاذ بن چکی ہے۔ ایران جنگ میں فریقیقن کی طرف سے بنیادی انسانی وسائل پر حملوں جنوبی ایشاء میں بھی یہ رجحان خطرناک صورت اختیار کرگیا ہے خاص طور پر بھارت کے ھوالہ سے جو اعمال سے بارہا ثابت کرچکا ہے کہ وہ دشمنی اور غلیظ مفادات کے حصول کے لئے کسی بھی حد تک گرسکتا ہے۔ اسکے برعکس پاکستان نے ہر نازک موقع پر ذمہ دار ریاست ہونے کا ثبوت دیا۔سانحہ پہلگام کے بعد پیدا ہونے والی بلکہ پیدا کی جانے والی کشیدگی کے دوران بھی اس نے خود کو ایک نسبتاً محتاط اور متوازن پوزیشن میں رکھنے کی کوشش کی۔ عسکری اور سفارتی میدان میں بھارت کو ناک آؤٹ بھی کیا اور اقوام کی برادری میں اپنے قد میں بھی اضافہ کیا۔
اس پورے بحران نے جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست کو بھی تبدیل کیا ہے۔جس میں جہاں پاکستان ایران امریکہ جنگ میں ثالثی کے ساتھ ساتھ دنیا کی تمام بڑے یہاں تک کہ ایک دوسرے کے مخالف ملکوں کے ہاں بھی یکساں طور پر اہمیت اور اعتباریت حاصل کررہا ہے وہیں بھارت سوائے اُس اسرائیل کے کسی کا منظور نظر نہیں آرہا جسے دنیا انسانہت کا مجرم سمجھتی ہے یہاں تک اب اقوام متحدہ بھی بھارت کے اس تعلق کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی کہہ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق خصوصی رپورٹر فرانسسکا البانیز نے حال ہی میں دی ہندو کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا اور اسے ممکنہ طور پر قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان تمام عوامل کا یہ ناگوار مجموعی نتیجہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں حقیقت اور بیانیے کے درمیان فاصلہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ریاستی طاقت اب صرف فوجی یا اقتصادی وسائل تک محدود نہیں بلکہ معلومات، میڈیا اور بیانیہ سازی اس کا مرکزی ستون بن چکے ہیں۔اس پورے نظام میں سب سے بڑا چیلنج شفافیت اور احتساب کا فقدان ہے۔ جب ریاستی بیانیہ سوال سے بالاتر ہو جائے تو جمہوری مباحث کمزور پڑ جاتے ہیں اور پالیسی سازی جذباتی اور یکطرفہ ہو جاتی ہے۔آخرکار یہ بحران صرف بھارت یا پاکستان تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ایک امتحان ہے کہ آیا وہ حقیقت پر مبنی پالیسی سازی کی طرف بڑھتا ہے یا بیانیاتی سیاست کے زیرِ اثر مزید تقسیم اور عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے۔ یہ کھیل بھارت نے شروع کیا ہے چنانچہ اسکی ذمہ داری بھی اسی پہ عائد ہونی چاہئے۔






