پاکستان کا بھارت سے سندھ طاس معاہدے کی مکمل بحالی کا مطالبہ
عاصم افتخار نے اقوام متحدہ میں بھارت کے خلاف خط جمع کرا دیا

اقوامِ متحدہ:اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اقوام متحدہ میں بھارت کے خلاف خط جمع کرا دیا جس میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق خط میں لکھاگیاہے کہ بھارتی یکطرفہ اقدامات علاقائی امن وسلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔سلامتی کونسل مداخلت کرے اور بھارت سے بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق عملدرآمد کروایا جائے۔خط میں سلامتی کونسل کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرائی گئی ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے غیر قانونی فیصلے کو ایک سال مکمل ہونے کے بعد اس کے سنگین امن و سلامتی اور انسانی اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس تشویشناک صورتحال کا نوٹس لے اور بھارت پر زور دے کہ وہ فوری طور پر معاہدے پر مکمل عملدرآمد بحال کرے، ڈیٹا شیئرنگ دوبارہ شروع کرے اور پانی کو ہتھیار کے طورپر استعمال کرنے سے باز رہے ۔عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے صدر کو آگاہ کیا کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے سنجیدہ ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے، بھارت کی جانب سے بے بنیاد الزامات اور پروپیگنڈے کو دہرایا جا رہا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر کا غیر حل شدہ تنازع جو سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ایک دیرینہ مسئلہ ہے جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے، جس کا منصفانہ اور پائیدار حل سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ناگزیر ہے۔عاصم افتخار احمد نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے متعلق نائب وزیرِاعظم محمد اسحاق ڈار کی جانب سے لکھا گیا خط اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر، بحرین کے سفیر جمال فارس الروایعی کے حوالے کیا۔








