مقبوضہ جموں و کشمیر

بی جے پی کی بھارتی حکومت نے لداخ میں پانچ نئے اضلاع قائم کر لیے، تعداد 7ہوئی

اقدام کا مقصد خطے کے مسلمانوں کو دیوار کیساتھ لگانا ہے: مبصرین

لیہہ: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے خطے لداخ خطے میں بی جے پی کی بھارتی حکومت نے مزید پانچ اضلاع قائم کر لیے ہیں جس سے خطے میں اضلاع کی مجموعی تعداد 2سے بڑھ کر 7ہو گئی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق نئے اضلاع کے قیام کا اعلان نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر ونائی کمار سکسینہ نے کیا۔ گو کہ بھارت دعویٰ کر رہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنا اوردور افتادہ علاقوں میں ترقی کو فروغ دینا ہ تاہم مقبوضہ علاقے کے امور پر گہری نظر رکھنے والے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا اصل مقصد خطے کے مسلمانوں کو تقسیم کرنا اور انہیں دیوار کیساتھ لگانا ہے۔
نئی اضلاع بنانے کی منظوری بھارتی وزارت داخلہ نے اگست 2024 میں دی تھی جسے رواں ماہ(2026 (کی 27 تاریخ کو باضابطہ طور پر نافذ کیا گیا۔ سات اضلاع میں سے پانچ — لیہہ، نوبرا، شام، چانگتھانگ اور زنسکار — میں اب بدھ اکثریت میں ہیں جب کہ صرف دو — کارگل اور دراس — مسلم اکثریتی رہ گئے ہیں۔ تنظیم نو سے پہلے، لداخ کے دو اضلاع تھے: مسلم اکثریت کے ساتھ کارگل اور بدھ اکثریت کے ساتھ لیہہ۔
2011 کی مردم شماری کے مطابق لداخ کی کل آبادی 274,289 ہے، جس میں مسلمان 46.40% اور بدھسٹ 39.65% ہیں۔ ناقدین کا استدلال ہے کہ اضلاع کی دوبارہ ترتیب آبادی کے تناسب کے حساب غیر متناسب دکھائی دیتی ہے، جس سے مساوی نمائندگی پر سوالات اٹھتے ہیں۔
یادر ہے کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت نے اگست 2019میں جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے وقت لداخ کو خطے سے الگ کر کے اسے بھی یونین ٹیری ٹری میں تبدیل کر لیا تھا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button