مقبوضہ کشمیر: منشیات مخالف کارروائیوں کی آڑ میں کشمیریوں کے مکانات منہدم کرنے کی مہم جاری

سرینگر:بھارت کے غیر قانونی طور پر زیرقبضہ جموں و کشمیر میں، بی جے پی کی بھارتی حکومت نے کشمیریوں کو نشانہ بنانے اور مقامی معیشت کو کمزور کرنے کیلئےگھروں کو منہدم کرنے اور نام نہاد منشیات مخالف کارروائیاں تیز کردی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قابض حکام نے مقبوضہ علاقے کے مختلف حصوں میں عام کشمیریوں کےگھروں اور دکانوں کومسمارکرنے کی متعدد کارروائیاں کی ہیں۔ مقامی افراد نے اس اقدام کو انتقامی کارروائی قرار دیایے جس نے کئی خاندانوں کو معاشی طور پر تباہ کر دیا ہے۔بھارتی پولیس نےسرینگر کے علاقے پل پورہ نورباغ میں ایک کشمیری کے گھر کویہ الزام لگا کر مسمار کردیا کہ اس کی تعمیر کیلئے رقم غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی یے۔ تاہم، مقامی لوگوں نے پولیس کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا یےکہ ان کارروائیوں کا مقصد کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور کرنے کیلئے انہیں انتقام کا نشانہ بناناہے۔
دریں اثنا، سوپور میں پولیس نے جھوٹے الزامات کے تحت تین کشمیریوں کو گرفتار کر کےان کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ قابض انتظامیہ کی طرف سے بیک وقت گھروں کی مسماری اور منشیات مخالف نام نہادکارروائیاں کشمیریوں کو اپنی حق پر مبنی جہدوجہد آزادی جاری رکھنے سے کی مذموم سازش کا حصہ ہے۔ ان انتقامی کارروائیوں سے کشمیریوں کاروزگار بری طرح متاثر ہوتا ہے اورانکی معاشی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔






