مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں وکشمیرمیں مائیں آج بھی اپنے نظربند ، لاپتہ بیٹوں کی منتظر ہیں

اسلام آباد : آج جب دنیا بھر میں ماوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہزاروں مائیں اپنے ان بیٹوں اوردیگر رشتہ داروں کی واپسی کی منتظر ہیں جنہیں بھارتی فورسز اور ایجنسیوں نے گرفتارکرکے لاپتہ یا جیلوں میں نظر بند کر دیاہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 1989 سے 10 مئی 2026 تک خواتین اور بچوں سمیت 96,495 کشمیری شہید ہوئے ہیں، بھارتی فورسز نے2,991 2خواتین کو بیوہ اور 11,277 کی بے حرمتی کی۔ رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ 66 سالہ خاتون رہنما آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی سمیت تقریباً ایک سو کشمیری خواتین کو جھوٹے الزامات کے تحت مختلف جیلوں میںنظربندرکھا گیاہے۔رپوٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی طور پر نظر بندحریت رہنماوں، کارکنوں، علمائے کرام، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور نوجوانوں کی ماوں، بیویوں اور بیٹیوں نے بھارت اورمقبوضہ جموں وکشمیر کی مختلف جیلوں میں بند اپنے عزیزوں کی بگڑتی ہوئی صحت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ میں کہاگیا کہ بھارتی فورسز نے تقریباً 8000 کشمیریوں کو گرفتارکرکے لاپتہ کیا اور ان لاپتہ افراد کی مائیں آج بھی ان کی واپسی کی منتظرہیں۔رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ کشمیری مائیں بھارتی ریاستی دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں ، بھارتی مظالم کا سب سے زیادہ نقصانکشمیری ماﺅں کو برداشت کرنا پڑتا ہے جن کے قریبی عزیز بھارتی گولیوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ رپورٹ میں کہاگیا کہ کشمیری مائیں آج بھی اپنے بیٹوں اور شوہروں کی واپسی کا انتظار کر رہی ہیں جو مختلف جیلوں میں نظربند ہیں یالاپتہ کردیے گئے ہیں۔ اب تک کئی کشمیری مائیں اپنے لاپتہ بیٹوں کو تلاش کرتے کرتے اس دنیا سے کوچ کرچکی ہیں۔ان میں حسینہ بیگم بھی شامل ہیں جن کا بیٹا سید انور شاہ جو پیشے سے ایک پینٹر تھا،لاپتہ ہوگیا تھا۔انورکو بھارتی فوجیوں نے21 جولائی 2000 کوسرینگر سے گرفتارکرکے لاپتہ کردیا تھا ۔کشمیر کے دور دراز گاو¿ں کرہامہ سے تعلق رکھنے والی مہتابہ بیگم اپنے بیٹے کو تلاش کرتے کرتے چل بسیں جسے 1990 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کا بیٹا محمد یعقوب خان ایک مزدور تھا۔ بمنہ کی بوٹ مین کالونی سے تعلق رکھنے والی مسرہ بیگم اپنے اکلوتے بیٹے شبیر حسین گاسی کو تلاش کرتے کرتے چل بسیں جنہیں بھارتی فوج نے 21 جنوری 2000 کو گرفتار کیا تھا۔حمیدہ پروین 2012 میں اس امید کے ساتھ کہ اس کا بیٹا ایک دن گھر واپس آئے گا،اس دنیا سے کوچ کرگئیں۔ ان کا بیٹا عابد حسین ایک طالب علم تھا۔ زونہ بیگم کا تعلق راجباغ سے ہے،ان کا بیٹا مئی 1996 میں لاپتہ ہو گیا تھا جب بھارتی فورسز نے ان کے گھر پر چھاپہ مارکر اسے گرفتارکیا۔ اس کا بیٹا امتیاز احمد محکمہ جنگلات میں ملازم تھا۔زونہ بیگم 2011 میں اپنے بیٹے کا انتظاکرتے کرتے انتقال کر گئیں۔ بٹہ مالوسرینگر سے تعلق رکھنے والی حلیمہ بیگم کا فروری 2020 میں انتقال ہو گیا ۔ وہ اپنے بیٹے بشارت احمد شاہ کو25سال تک تلاش کرتی رہیںجو گرفتاری کے وقت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا۔ بشارت کو 7 جنوری 1990 کو بھارتی پیرا ملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں نے سوپور سے گرفتار کیا تھا۔کشمیری ماو¿ں کو بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے اپنے بیٹوں کی موت پر ماتم کرنے اور انہیں اپنے آبائی قبرستانوں میں دفنانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے دیگر عالمی اداروں کو مقبوضہ علاقے میں کشمیری ماو¿ں کے دکھوں کا نوٹس لینا چاہیے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button