مقبوضہ جموں و کشمیر

بھارتی پولیس نے سرینگر میں کروڑوں کی جائیدادیں ضبط کر لیں

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی پولیس نے نام نہاد انسداد منشیات مہم کی آڑ میں سرینگر میں 3.5 کروڑ روپے مالیت سے زائد کی غیر منقولہ جائیداد یںضبط کر لی ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یہ جائیدادیں تین افراد کی ملکیت ہیں جن پر کالے قوانین کے تحت متعدد مقدمات درج ہیں۔پولیس نے سرینگر میں برتھانہ، قمرواری کے شاہد مشتاق کی تقریباً 80 لاکھ روپے کی جائیداد ضبط کر لی اور کسی ثبوت کے بغیر دعویٰ کیا کہ یہ اثاثے منشیات کی اسمگلنگ سے حاصل کیے گئے ہیں۔ایک اور کارروائی میں پولیس اسٹیشن نوگام نے واگورہ، بی کے پورہ میں معراج الدین کی جائیداد ضبط کرلی جس میں 18 مرلہ اراضی، ایک منزلہ مکان اور ایک گاﺅ خانہ شامل ہے جس کی قیمت تقریباً 1.5 کروڑ روپے ہے۔
دریں اثناءپولیس اسٹیشن صدر سرینگر نے تقریباً 1.2 کروڑ روپے مالیت کا ایک دو منزلہ رہائشی مکان ضبط کرلیاجو راوت پورہ، باغات برزلہ کے توقیر احمد میر کا ہے۔پولیس نے دعویٰ کیا کہ تمام جائیدادیں منشیات کے کاروبار سے حاصل کی گئی ہیں۔ سیاسی مبصرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انسداد منشیات مہم کو کشمیریوں کوگھروں اور جائیدادوں سے محروم کرنے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں معاشی اور سماجی طور پر کمزور کیاجائے۔ ان کا کہنا ہے اگرچہ منشیات کا استعمال ایک سنگین مسئلہ ہے لیکن گھروں کو ضبط اور مسمار کرنا اجتماعی سزا کے مترادف ہے جس سے خواتین اور بچوں سمیت پورے خاندان متاثر ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے جابرانہ اقدامات نے لوگوں میں خوف اور احساس عدم تحفظ پیدا کیا ہے، جو ان اقدامات کو بھارت کی ایک وسیع پالیسی کا حصہ سمجھتے ہیں جس کا مقصد کشمیریوں کو معاشی طور پر کمزورکرنا اور مقبوضہ علاقے پر اپنے غیرقانون قبضے کو مستحکم کرنا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button