بھارت

بھارت:میڈیکل انٹری امتحان” نیٹ” کے پیپر لیک معاملے نے ملک کے تعلیمی نظام پر سوالات کھڑے کردیے

نئی دلی: بھارت کے سب سے بڑے میڈیکل انٹری امتحان ”نیٹ”2026کے پیپر لیک معاملے نے پورے ملک کے تعلیمی نظام کو ہلا کے رکھ دیا ہے ۔
کشمیر میڈیاسروس کیمطابق پیپر لیک کا یہ معاملہ صرف ایک ریاست تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ مہاراشٹر، ہریانہ، راجستھان ، بہارجیسی ریاستوں کے علاوہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر تک پھیلا ہوا ہے ۔ تحقیقات کے دوران ” پرائیویٹ مافیا” نامی ایک وٹس ایپ گروپ اور ماسٹر مائنڈ منیش یادو کا نام بھی سامنے آیا ہے ۔تحقیقات کے مطابق نیٹ 2026کا سوالیہ پرچہ مہاراشٹر کے ناسک میں واقع ایک پرٹنگ پریس سے لیک ہوا۔ مذکورہ پریس میں سوال نامہ غیر قانونی طورپر کاپی کیا گیا جو بعد ازاں کئی ریاستوں میں پھیلایا گیا۔ کہا جا رہا ہے کہ سب سے پہلا پرچہ ہریانہ پہنچا ۔ یریانہ سے پرچہ رجستھان کے دارلحکومت جے پور منتقل کیا گیا اسکے بعد دیگر کئی ریاستوں اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیرتک پہنچا۔
دریںاثنا معاملہ سامنے آنے کے بعد حکومت نے امتخان کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد لاکھوں طلباء اورانکے والدین میں تشویش کی لہر ڈوڈ گئی ہے۔ پیپر لیگ کے اس معاملے نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
حکومت نے معاملے کی تحقیقات سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے سپرد کر دی ہیں۔ ناسک کی پرٹنگ پریس سے بھی ایک شخص کو گرفتارکیا گیا ہے ۔ معاملے میں ابھی تک دو ملزمان کے نام سامنے آئے ہیں ۔ منیش یادو اور راکیش منڈاوریا۔ منیش یاد و پورے نیٹ کا ماسٹر مائنڈ بتایا جا رہا ہے جبکہ راکیش پر پرچہ پھلانے کا الزام ہے۔KMS-

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button