بھارت

بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا جارہا ہے: ڈاکٹر نجیب جنگ

نئی دہلی:دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر ڈاکٹر نجیب جنگ نے بھارت میں مسلمانوں کی بگڑتی ہوئی حالت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈاکٹر نجیب جنگ نے معروف بھارتی صحافی کرن تھاپر کے ساتھ ایک انٹرویو میں بھارتی مسلمانوں کی صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ وہ دوسرے درجے کے شہری ہونے کے قریب ہیں۔انہوں نے کہاکہ مسلمان اپنے آپ کو الگ تھلگ محسوس کرتے ہیں ۔ریاست کی طرف سے ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے اور انہیںبھارت کی قومی ترقی سے باہر رکھا جاتا ہے جو تکلیف دہ ہے۔انہوں نے پورے معاشرے میں خوداحتسابی کی ضرورت پر زور دیا۔مسلمانوں کے سیاسی اخراج کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر نجیب جنگ نے کہا کی کہ مغربی بنگال میں 27فیصد اور آسام میں 34فیصد مسلمان ہونے کے باوجود بی جے پی حکومت نے حالیہ انتخابات میں کوئی مسلمان امیدوار کھڑا نہیں کیا۔ آزادی کے بعد پہلی باربھارتی حکومت میں کوئی مسلمان وزیر نہیں ہے اور بی جے پی کے پاس کوئی منتخب مسلمان رکن پارلیمنٹ نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی نمائندگی میں تیزی سے کمی آئی ہے، کوئی مسلمان وزیر اعلیٰ نہیں ہے۔ سینئر بیوروکریسی، عدلیہ اور دیگر اہم اداروں میں پچھلی دہائیوں کی نسبت مسلمانوں کی نمائندگی انتہائی کم ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایاکہ بھارت کی آبادی کا 15 فیصد(تقریباً 20 کروڑ) مسلمانوں پر مشتمل ہے ، ان کا مستقبل کیا ہے کیونکہ ان کے ووٹوں سے حکمرانی پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور عوامی زندگی میں ان کا کردار مسلسل سکڑتا جا رہا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button