بھارت: مدھیہ پردیش میں ہندو انتہاپسندوں کا مسلمان نوجوان پر وحشیانہ تشدد

بھوپال :بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے اورتازہ ترین واقعے میںریاست مدھیہ پردیش میں ہندو انتہاپسندوں نے نام نہاد” لوجہاد“کا بہانہ بناکر ایک مسلمان نوجوان کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا، اس کی تذلیل کی اور نیم برہنہ کرکے پریڈ کرائی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حملے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہندو انتہاپسندمتاثرہ شخص پر جس کی شناخت عارف خان کے نام سے ہوئی ہے، اس وقت حملہ کررہے ہیں جب وہ بھوپال کے ایک ریسٹورنٹ میں ایک خاتون کے ساتھ بیٹھا تھا۔ حملہ آوروں نے بجرنگ دل کے حق میں نعرے لگائے اور عارف خان پر تشدد کرنے سے پہلے خاتون سے پوچھ گچھ کی۔ہندوتوا غنڈوںنے عارف خان کو گھسیٹ کر ہوٹل سے باہر سڑک پر لایا، اس کو تھپڑ اورگھونسے مارے ، چہرے پرگائے کا گوبر اورسیاہی مل دی ،نیم برہنہ کرکے پریڈ کرائی اور”جے شری رام“ کے نعرے لگانے پر مجبورکیا۔ ایودھیا نگر سے تعلق رکھنے والی مذکورہ خاتون نے پولیس اسٹیشن میں واضح بیان دیا کہ وہ عارف سے ملنے کے لیے اپنی مرضی سے آئی تھی اور اسے کسی جبر، جنسی تشدد یا مذہب کی جبری تبدیلی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اس نے عارف کے خلاف کوئی شکایت درج کرانے سے بھی صاف انکار کردیا۔دہلی میں قائم شہری حقوق کی تنظیم ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے گووند پورہ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی اور قصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اے پی سی آر کے اسٹیٹ کوآرڈینیٹر ایڈوکیٹ انور پٹھان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ایف آئی آر درج کی گئی ہے لیکن اس میں صرف حملہ آوروں کی طرف سے عارف خان کے ساتھ توہین آمیز سلوک کا ذکرکیاگیا اور جسمانی تشددکا کوئی حوالہ نہیں دیاگیا۔انہوں نے کہاکہ ہم نے انہیں وہ ویڈیو فراہم کی ہے جس میں تمام حملہ آوروں کی واضح طور پر شناخت کی جا سکتی ہے۔ لیکن یہاں بی جے پی کی حکومت ہے اور پولیس اسی پر عمل کرے گی جو انہیں کرنے کا حکم دیا جائے گا۔ اے پی سی آر نے اپنی شکایت میں روہت سنگھ، بوجیندر پرجاپتی، جیتو کشواہا، رنجیت سوریاونشی اور دیگر افراد کو کیس میں ملزم نامزد کیا ہے۔اس واقعے سے ایک بار پھر بھارت میں مسلمانوں کو درپیش خوف ودہشت کے ماحول، عدم تحفظ اور منظم امتیازی سلوک کی عکاسی ہوتی ہے، جہاں ہندو انتہا پسند بلارکاوٹ اقلیتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔






