مغربی بنگال میں انتخابات کے بعد تشدد کا معاملہ، عدالت میں ممتا بنر جی کے زور دار دلائل

کولکتہ: بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتابنر نے کولکتہ ہائیکورٹ کی ڈویژن بنچ کے سامنے الیکشن کے بعد ہونے والے تشدد کے معاملے پر زور دار دلائل دیے ہیں۔ یہ تشدد 4مئی کو انتخابی نتائج کے اعلا ن کے بعد پھوٹ پڑاتھا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ممتابنر جی نے عدالت کو بتایا کہ ریاست میں صورتحال انتہائی سنگین ہے ، اقلیتی برادری کے لوگ خوف و دہشت کے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں ، خواتین کو عصمت دری کی دھمکیاںدی جارہی ہیں، گھروں وکو لوٹا اور جلایا جا رہا ہے اور پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ سابق وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ اگر عدالت نے مداخلت نہ کی تو یہ صورتحال ریاست کیلئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو گی۔ انہوںنے چیف جسٹس ٹی ایس شیوگنم اور جسٹس پرتھا سارتھی سین کے روبرو مفاد عامہ کی عرضداشت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ 1995میں کولکتہ ہائی کورٹ میں بطور وکیل پیش ہوئی تھیں او اپنی رکنیت کی باقاعدہ سے تجدید کراتی رہی ہیں۔
دریں اثنا ممتاز بنر جی کی سربراہی میں قائم ترنمول کانگریس نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں عدالت میں ممتا کی پیشی اور بھر پور دلائل کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوںنے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ بنگالی عوام کو مشکل وقت میںتنہا نہیں چھورٹیں۔ پارٹی نے انہیں سچائی، دستوری اقدار اور انصاف کیلئے لڑنے والی رہنما قرار دیا۔







