پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے: سردار مسعود
کشمیر، سندھ طاس معاہدے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا

اسلام آباد : آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات اور پرامن روابط کے لیے پرعزم ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سردار مسعود خان نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مذاکراتی عمل میں تنازعہ جموں و کشمیر اور سندھ طاس معاہدے پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک صدیوں تک ایک دوسرے کے ہمسایے ہونگے لہٰذا جامع مذاکرات اور اعتماد سازی کے اقدامات جاری رہنے چاہئیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ لوگوں کے درمیان رابطوں اور ثقافتی تبادلوں کو دونوں ممالک کے درمیان مرکزی سیاسی تنازعات کو حل کرنے کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی سیاسی اور اسٹریٹجک حلقوں کی طرف سے سامنے آنے والے حالیہ بیانات جن میں آر ایس ایس اور سابق فوجی قیادت شامل ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھار ت بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباو¿ کے تحت پاکستان کے ساتھ محدود روابط رکھنے پر غور کر رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ، خلیجی ریاستوں اور یورپی شراکت داروں سمیت مختلف ممالک نے بھارت کو دائمی دشمنی سے بچنے اور پاکستان کے ساتھ رابطے دوبارہ کھولنے کی ترغیب دی ہے۔سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی جانب سے ”آپریشن سندور“ کے حوالے سے مسلسل بیان بازی کے باوجود بھارت کے اندر سے مذاکرات اور بات چیت کی حمایت نظر آتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بھارت روایتی طور پر دو متوازی نقطہ نظر پر عمل پیرارہاہے ،ایک کشمیر اور آبی تنازعات جیسے متنازعہ مسائل پر بات چیت اور دوسرا مشکل سیاسی مسائل کو پس پشت ڈالتے ہوئے لوگوں کے درمیان رابطوں، ثقافتی تبادلوں، سیاحت اور تجارت کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو شفافیت اور احتیاط کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے اور اسے اگست 2019 میں بھارت کے اقدامات کے حوالے سے سیاسی اور سٹریٹجک بھول نہیں کرنی چاہیے جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادیاتی اور آئینی تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔ سردار مسعود نے کہا کہ بھارت ممکنہ طور پر پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاسوں میں شرکت کرے گا کیونکہ علاقائی فورمز کا بائیکاٹ کرنے سے اس کا اپنا موقف مزید کمزور ہو گا۔








