ناروے میں صحافی کے سوال پربھارتی وزیراعظم کو شرمندگی کا سامنا ، ویڈیو وائرل

اوسلو 20 مئی (کے ایم ایس)بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ایک مشترکہ پریس بریفنگ کے دوران اس وقت غیر متوقع صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب ایک خاتون صحافی نے آزاد میڈیا اور بنیادی حقوق کے حوالے سے سخت سوالات کیے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں کہاگیاکہ ناروے کے وزیراعظم کے ساتھ مشترکہ بریفنگ کے اختتام پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی صحافیوں کے سوالات لیے بغیر روانہ ہونے لگے جس پر ناروے کی صحافی ہیلے لنگ نے بلند آواز میں سوال کیا کہ مودی دنیا کے آزاد میڈیا کا سامنا کیوں نہیں کرتے؟عینی شاہدین کے مطابق صحافی نے دوبارہ سوال کرنے کی کوشش کی، تاہم اسی دوران لفٹ کا دروازہ بند ہوگیا اور بھارتی وزیراعظم وہاں سے روانہ ہوگئے۔بعد ازاں بھارتی وزارت خارجہ کی پریس بریفنگ کے دوران بھی میڈیا آزادی اور انسانی حقوق کے معاملے پر تلخ جملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا۔خاتون صحافی نے سوال اٹھایا کہ جب بھارت میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات موجود ہیں تو ناروے بھارت پر کیسے اعتماد کرے گا اور وزیراعظم مودی آزادانہ سوالات کاکب جواب دیں گے؟رپورٹس کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سوال کا براہ راست جواب دینے کے بجائے اگلا سوال کہہ کر دوسرے صحافی کو موقع دیا جس پر خاتون صحافی ناراض ہوکر ہال سے باہر چلی گئیں۔بعد میں ہیلے لنگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ انہیں توقع تھی کہ بھارتی وزیراعظم ان کے سوال کا جواب نہیں دیں گے۔انہوں نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ ناروے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں پہلے نمبر پر ہے جبکہ انڈیا 157 ویں نمبر پر موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی طاقتور حکومتوں سے سوال کرنا آزاد صحافت کی ذمہ داری ہے۔یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہوگیا جہاں کئی صارفین نے میڈیاکی آزادی اور جمہوری اقدار پر بحث شروع کردی ہے۔







