بھارت میں آزاد پریس کا وجود ہی نہیں ہے: صحافی تنوشری پانڈے

نئی دہلی : بھارت کی ایک آزاد صحافی اور دستاویزی فلم ساز تنوشری پانڈے نے بھارتی میڈیا انڈسٹری کی موجودہ صورتحال اور آزادی صحافت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کا بیان ناروے کے سرکاری دورے کے دوران اوسلو میں صحافی ہیلی لینگ کے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے پوچھے گئے سوالات کے پس منظر میں سامنے آیاجن میں انہوں نے ناروے اور بھارت کی آزادی صحافت کی عالمی درجہ بندی کا موازنہ کرتے ہوئے بھارت میں انسانی حقوق اور میڈیا کی آزادی پر تشویش کا اظہار کیا۔سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں تنوشری پانڈے نے کہا کہ بھارتیمیڈیا میں اب کوئی جگہ نہیں بچی ہے کیونکہتمام نیوز رومز بک چکے ہیں۔ اس بیان سے میڈیا کی آزادی، ادارتی آزادی اورمیڈیا کے اداروں پر سیاسی اثر و رسوخ کے بارے میں صحافیوں، سیاسی کارکنوں اور سوشل میڈیا صارفین کے درمیان نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ویڈیو میں تنوشری پانڈے کہتی ہیں کہ بھارت میں پریس کی آزادی پر سخت پابندیاں عائد ہیں اور صحافی دباو اور خوف میںکام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد صحافت سکڑ رہی ہے اور تنقیدی رپورٹنگ کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے یا اسے محدود کر دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں بھارت میں آزادی صحافت کے بارے میں بتانے کے لیے کسی نارویجن صحافی کی ضرورت نہیں ،ہم بھارت کے اندر کام کرنے والے صحافی ہیں اور برسوں سے اس حقیقت کو برداشت کر رہے ہیں۔ تنو شری نے کہاکہ بھارت میں پریس کی آزادی عملی طور پر موجود نہیں اور صحافیوں کو حکومتی دباو، سنسرشپ، دھمکیوں اور تنقیدی رپورٹنگ کو دبانے جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سخت سوالات پوچھنے پر اکثر آن لائن ردعمل کا سامنا کرتاپڑتا ہے جس میں نفرت انگیز مہم اورنیوز رومز سے نکال دینا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے صحافی اب یوٹیوب، ٹویٹر یا بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر کام کر رہے ہیں، اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اس لیے کہ مین اسٹریم میڈیا میں کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔ انہوں نے ہتھرس، منی پور تشدد، گائے سے متعلق معاملات، بدعنوانی اور کشمیری پنڈتوں کی صورتحال جیسے حساس معاملات کے حوالے سے درپیش مشکلات کواجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دباو کی وجہ سے بہت سی خبریں چلائی نہیں جاسکتیں۔ تنوشری پانڈے نے کہاکہصحافی خوف کے ماحول میں کام کر رہے ہیں اور آزاد نیوز رومز کومسلسل کمزور کیا گیا ہے اورر کئی صحافیوں کو تنقیدی سوالات پوچھنے پر ہٹا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹرویوز اسکرپٹڈ اور دوستانہ ہوتے ہیں اورمین اسٹریم میڈیا میں احتساب بڑی حد تک غائب ہے۔ ویڈیو نے بھارت میں میڈیا کی آزادی پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے، ماہرین اور مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں پریس کی آزادی شدید دباو کا شکار ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جمہوریت کے چوتھے ستون کے طور پر پریس کاروایتی کردار کمزور ہو گیا ہے اور جمہوری اقدار ختم ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت ایک ہندوتوا طبقے کے زیر اثر ہے۔







