بھارت

کپیٹل ہل پر پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی خفیہ تقریب ، بھارت کی ناکامی چھپانے کی ایک او رکوشش


واشنگٹن;
امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں بھارتی سفارت خانے کی جانب سے 22اپریل کو پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر ” دہشت گردی کی انسانی قیمت ”کے عنوان سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ تقریب کپیٹل ہل کے انتہائی حساس اور سخت حفاظتی حصار میں منعقد کی گئی، تاہم اسے مکمل طور پر خفیہ رکھا گیا اور بین الاقوامی میڈیا کوبھی رسائی نہیں دی گئی، جس پر مختلف حلقوں میں سوالات اٹھ گئے ہیں۔رپورٹس کے مطابق تقریب میںصرف مخصوص مہمانوں کی  شرکت کی دعوت دی گئی ، جبکہ اس کی کوریج صرف بھارتی سفارت خانے کے پریس ونگ اور چند منتخب بھارتی صحافیوں نے کی ۔ تقریب میں امریکی کانگریس کے بعض ارکان، بھارتی نژاد سیاسی و سماجی شخصیات اور امریکی پالیسی ماہرین کو ہی مدعو کیا گیاتھا، تاہم عمومی میڈیا کی عدم موجودگی نے تقریب کی شفافیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ناقدین کا کہنا ہے کہ پہلگام میں اپنے انٹیلی جنس نظام کی ناکامی کے بعد، بھارت اپنی نااہلی کو عالمی سفارت کاری کے لبادے میں چھپانے کیلئے کپیٹل ہل پر ایسی ڈرامائی تقریبات منعقد کرنے پر مجبور ہے۔ امریکی کانگریس کے مخصوص ارکان کی شرکت بھارتی ایجنٹوں کے اس نیٹ ورک کو بے نقاب کرتی ہے جو نئی دلی کے ایک اشارے پر پاکستان مخالف اسکرپٹ پڑھنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ منتخب امریکی ارکان کانگریس پاکستان کی "آپریشن بنیان المرصوص” میں فیصلہ کن فتح کی عالمی رپورٹس کو نظر انداز کر کے محض بھارتی سفارتخانے کا لکھا ہوا اسکرپٹ دہرا رہے ہیں۔ تقریب میں بعض ارکان نے ایک ایسی ریاست کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کی بات کی جس کا اپنا سکیورٹی نظام پہلگام واقعے میں بری طرح ناکام ہوچکاہے ۔ ان شرکا کو چاہیے تھا کہ وہ بھارت کے مایوس کن پروپیگنڈے کا حصہ بننے کے بجائے پاکستان کی فوجی مہارت اور درستگی کا اعتراف کرتے۔ غیر ملکی دارالحکومتوں میں اپنی تزویراتی ناکامیوں کا ماتم کرنے کے بجائے، بھارت کو پاکستان سے سیکھنا چاہیے کہ کس طرح فیصلہ کن فتوحات اور حقیقی دفاعی سنگ میل کا جشن منایا جاتا ہے۔ پہلگام کی برسی کی یہ تقریب محض بھارت کی ناکامی کا ایک او ر واضح ثبوت ہے کہ خطے میں بھارت کی فوجی حکمت عملی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ پاکستان ‘فتح’2’جیسی جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے،جبکہ بھارت آج بھی اپنے ماضی سے جان چھڑانے کی کوششوں میں مصروف ہے اور اپنی سکیورٹی خامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے عالمی تعاون کی بھیک مانگ رہا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button