پاکستان

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ تہران امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی راہ ہموار کرسکتا ہے: مسعود خان

اسلام آباد: آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور امریکہ و چین میں پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا حالیہ دورہ ایران امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لئے جاری سفارتی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر مفاہمت کی راہ ہموار کرے گا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سردار مسعود خان نے ایک میڈیاانٹرویو میں کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مذاکراتی عمل میں نمایاں تیزی آئی ہے اور یہ اب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حالیہ دورہ تہران نے متعلقہ فریقین کے درمیان اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں پاکستان کے فعال کردار اور متحرک شٹل سفارت کاری کو اجاگر کیا ہے۔سردار مسعود خان کے مطابق واشنگٹن، تہران اور خلیجی دارالحکومتوں سے سامنے آنے والی اطلاعات اس امر کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ دونوں فریق ابتدائی مفاہمت کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مرحلے پر کسی جامع معاہدے کے بجائے فریم ورک ایگریمنٹ یا مفاہمتی یادداشت طے پانے کا امکان زیادہ ہے جو مستقبل کے مذاکرات کی بنیاد فراہم کرنے اور مزید کشیدگی روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ ثالثی کی تمام کوششوں کا مقصد جاری کشیدگی کا خاتمہ اور عالمی منڈیوں و علاقائی استحکام کو متاثر کرنے والی غیر یقینی صورتحال کا تدارک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی مفاہمت عالمی برادری کے اعتماد میں اضافے اور ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حالیہ بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ واشنگٹن نے مذاکرات کے حوالے سے محتاط لیکن تعمیری رویہ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سفارتی حلقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ابتدائی معاہدوں میں آبنائے ہرمز سے متعلق امور، بالخصوص بحری آمدورفت کی آزادی اور بحران کے دوران عائد بحری پابندیوں کے خاتمے پر توجہ دی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق حساس معاملات جن میں یورینیم افزودگی، ذخائر اور پابندیاں شامل ہیں، مذاکرات کے آئندہ مراحل میں زیر بحث آئیں گے۔ سردار مسعود خان کے مطابق دونوں فریق عسکری، اقتصادی اور شہری تنصیبات پر حملوں سے گریز کے عزم پر بھی متفق ہو سکتے ہیںجو خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک اہم اعتماد سازی اقدام ثابت ہوگا۔پاکستان کے سفارتی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن دونوں پاکستان کی ثالثی کوششوں پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری بھی جاری سفارتی رابطوں میں اسلام آباد کے کردار کو سراہتے ہوئے پاکستان کو کلیدی سہولت کار تسلیم کر رہی ہے۔سردار مسعود خان نے کہا کہ اگر تہران میں ابتدائی مفاہمت طے پا جاتی ہے تو پاکستان دونوں فریقوں کے درمیان باضابطہ مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی بھی کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ دہائیوں پر محیط بداعتمادی کا فوری خاتمہ ممکن نہیں، تاہم موجودہ سفارتی پیش رفت کشیدگی کم کرنے اور خطے میں زیادہ مستحکم ماحول کے قیام کا ایک اہم موقع فراہم کر رہی ہے۔مسعود خان نے امید ظاہر کی کہ جاری سفارتی کوششیں ایسے معاہدے پر منتج ہو سکتی ہیں جو تنازعے کو مزید بڑھنے سے روکنے، علاقائی اعتماد بحال کرنے اور ایران و امریکہ کے درمیان پائیدار سفارت کاری کا راستہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہو۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button