کپواڑہ کے باشندے موبائل سروسز،ٹیلی مواصلات کی بنیادی سہولیات سے محروم

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے دیہی علاقوں میں موبائل فون کی سروسزکو بہتر بنانے کے بلند وبانگ دعوے ضلع کپواڑہ کی علاقے تراتھ پورہ میں دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں جہاں لوگ آج بھی موبائل سروسز سے محروم ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مقامی لوگوں نے بتایا کہ ایک دور افتادہ گاوں حفردہ پائین کم از کم 200 گھرانوں پر مشتمل ہے جس کی آبادی 2000 سے زائد ہے، اس کے باوجود اسے ٹیلی مواصلات کے بنیادی حق سے محروم رکھا گیا ہے جس سے مکینوں کا باقی دنیا سے رابطہ منقطع ہے اور ہنگامی حالات میں مشکلات کا سامنا ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایاکہ وہ سگنل حاصل کرنے کے لیے کئی کلومیٹر پیدل ایک مخصوص پہاڑی مقام پر جانے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طبی ایمرجنسی کے دوران لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ فوری طور پر رشتہ داروں سے رابطہ نہیں کر سکتے۔ علاقے کے ایک سرکاری ملازم نے کہاکہ جب ہم گھر پہنچ جاتے ہیں تو ہمارے موبائل فون کسی کام کے نہیں رہتے۔امتحانات کی تیاری کرنے والے طلباءکے ایک گروپ نے بتایاکہ انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے طلباءکو سب سے زیادہ نقصان کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ شکوک و شبہات کو دور کرنے کے لیے ایک دوسرے سے رابطہ بھی نہیں کر سکتے۔ ایک نوجوان نے کہاکہ ہمارے گاوں میں انٹرنیٹ پر سرفنگ کرنا برسوں سے ایک دور کا خواب رہا ہے۔مکینوں کا کہنا ہے کہ وہ کئی بار حکام کے ساتھ مسئلہ اٹھا چکے ہیں لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ انہوں نے حکام سے اپیل کی کہ وہ فوری مداخلت کریں اور ان کی شکایات کا ازالہ کریں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں مواصلاتی نیٹ ورکس نہ ہونا ایک بنیادی سہولت سے محرومی کے مترادف ہے۔



