بھارت

بھارت: تعلیم کے خلاف بلڈوزرکے استعمال سے جوہر یونیورسٹی کے طلباءکا مستقبل خطرے میں

لکھنو: بھوپال میں مقیم سماجی کارکن رضیہ مسعود نے اتر پردیش حکومت کی طرف سے رام پور میں محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 40 عمارتوں میں سے 38 کوجن میں یونیورسٹی کی مسجد بھی شامل ہے، غیرقانونی تعمیرات قراردینے کی آڑ میں منہدم کئے جانے کے اقدام کو طاقت کا غلط استعمال قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے 15 جولائی کو انہدام کا نوٹس جاری کرنے کے بعد کیمپس میں کشیدگی پیدا ہوئی۔ طلباءنے فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے یونیورسٹی کے مرکزی گیٹ پر غیر معینہ مدت تک دھرنا شروع کیا۔وائس چانسلر پروفیسر ظہیرالدین نے کہا کہ جب عمارتیں 2016 میں تعمیر کی گئیں توآرڈی اے کا کوئی دائرہ اختیار نہیں تھا ۔انہوں نے عمارتوں کوغیر قانونی کہنے کوناقابل قبول قراردیا۔ یونیورسٹی میں جو 2006 میں قائم ہوئی اور یوجی سی سے تسلیم شدہ ہے ،تقریباً 3,000 طلباءکو 100 سے زیادہ پروگرام پڑھائے جاتے ہیں جن میں سے تقریباً 40% غیر مسلم کمیونٹیز سے تعلق رکھتے ہیں۔ سکھ، ہندو اور مسلم تنظیموں کے وفود اور رکن پارلیمنٹ اقراءحسن سمیت سماج وادی پارٹی کے لیڈروں نے کیمپس کا دورہ کیا اور اسے تعلیم کا مندر قرار دیا۔سماج وادی پارٹی کے 10 رکنی وفد نے ضلع مجسٹریٹ کو ایک میمورنڈم پیش کرتے ہوئے حکم واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہدام کے حکم کو مرادآباد ڈویڑنل کمشنر کے سامنے چیلنج کیا گیا ہے جس کی سماعت 28 جولائی کو مقرر کی گئی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button