مقبوضہ کشمیر: ترقی کے نام پر وسائل کے استحصال پرکشمیری عوام برہم
سرینگر:بھارت کے غیر قانونی طور پرزیر قبضہ جموں و کشمیر کے عوام نے بھارتی حکومت کی جانب سے ترقی کے نام پر مقبوضہ علاقے کے قدرتی وسائل کے استحصال پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے ۔ ان کاکہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں ریلوے لائن کا مقصد مقامی معیشت کو فائدہ پہنچانانہیں بلکہ بھارت کے فوجی قبضے کو مضبوط کرنا ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری رپورٹ کے مطابق مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بہتر رابطوں اور معاشی خوشحالی کے مودی حکومت کے دعوئوں کے برعکس، ریلوے نیٹ ورک عالمی طورپر شہرت یافتہ سیب، دستکاریوں اور دیگرکشمیری مصنوعات بیرونی منڈیوں تک پہنچانے میں سہولت فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اب تک ریل کے ذریعے مقامی پیداوار کی کوئی نمایاں کھیپ برآمد نہیں کی گئی ہے۔مقامی لوگوں نے کہا کہ شہری اور تجارتی ضروریات پوری کرنے کے بجائے ریلوے لائن کو بڑے پیمانے پر فوجی سازوسامان، ٹینکوں، آرٹلری گنز اور قابض فوجیوں دیگر رسد کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوج کی آپریشنل سرگرمیوں کو مزید تقویت مل رہی ہے۔انہوں نے مزیدکہا کہ ناقص بھارتی مصنوعات، بالخصوص اڈانی سیمنٹ کی بڑی مقدار میں مقبوجہ کشمیر آمد سے مقامی صنعتوں کو شدید نقصان پہنچاہے۔ سیمنٹ مینوفیکچرنگ اور سیب کی کاشت، جو کشمیر میں روزگار کے اہم ذرائع ہیں، شدید خطرے سے دوچار ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی کان کنی پر عائدپابندیاں اور جینیاتی طور پر تبدیل شدہ فصلوں کے فروغ کی پالیسیوں سے بھی مقامی صنعت کاروں اور کاشت کاروں کو مشکلات کا سامنا ہے ۔ کشمیری عوام نے خبردار کیا کہ مودی حکومت کی یہ پالیسیاں منظم طورپر مقبوضہ علاقے کو بیرونی سپلائیز پر معاشی انحصار کی طرف دھکیل رہی ہیں، جس سے مقامی صنعتیں تباہ ہوہی ہے۔ ان کا مزیدکہنا تھا کہ یہ اقدامات کشمیری عوام کو معاشی اور سماجی طور پر پسماندہ کرنے کی دانستہ کوشش ہیں، جن کے ذریعے مقبوضہ علاقے پر بھارت کے فوجی تسلط کو طول دینے کی ساز ش کی جارہی ہے۔






