مقبوضہ جموں و کشمیر

آنگن واڑی کارکنوں کا کم اجرت اور ہراساں کیے جانے کے خلاف احتجاج کا اعلان

جموں:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں دیہی بچوں کی دیکھ بھال اور غذائیت کے کارکنوں نے جنہیں آنگن واڑی کارکنوں کے نام سے جانا جاتا ہے، پروگرام آفیسرکے دفاتر کے باہر ضلعی سطح پر مظاہروں کا اعلان کیا ہے جن میں انتظامیہ کی طرف سے ہراساں کیے جانے اور دیرینہ مطالبات کو مسلسل نظر انداز کیے جانے کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق آنگن واڑی ورکرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جنرل سکریٹری شوبا شرما اور ڈپٹی آرگنائزنگ سیکریٹری اشوک چودھری نے کہا کہ کئی چائلڈ ڈیولپمنٹ پروجیکٹ آفیسرز (سی ڈی پی او) اور سپروائزرز کارکنوں کو 2018-19 میں فراہم کردہ فرسودہ موبائل فونز کے ذریعے دن میں تین بارتصاویر اپ لوڈ کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پرانے 2G ڈیوائسز بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل کام کے باعث اکثر صحیح طریقے سے کام نہیں کرتیں، جبکہ کارکنوں کو بے ضابطگیوں کو تسلیم کرتے ہوئے حلف ناموںپر دستخط کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے جن میںتکنیکی خرابیوں کی وجہ سے تصویریں اپ لوڈ نہ ہونے پر محکمے کو نوکریاں ختم کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ایسوسی ایشن کا کہنا ہے اگرچہ مرکزی حکومت نے تقریباً ایک سال قبل نئے موبائل فونز کی خریداری کے لیے فنڈز مختص کیے تھے، لیکن محکمہ ان کی خریداری میں ناکام رہا ہے۔ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی کام انجام دینے سے پہلے کارکنوں کو جدید ترین موبائل فون، سم کارڈ اور ریچارج کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ایسوسی ایشن نے کہا کہ رواں سال جون میں سماجی بہبود کے وزیر کے ساتھ اٹھائے گئے کئی مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔ایسوسی ایشن کے رہنماﺅں نے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں آنگن واڑی ورکرز کو 2010 سے صرف 600 روپے مل رہے ہیں اور گزشتہ 16 سال سے اس میں کوئی اضافہ نہیں کیاگیا۔ایسوسی ایشن نے فیول چارجز اور کرایہ کے اجراءمیں تاخیراور مراعات کی عدم ادائیگی پر بھی تنقید کی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button