سول سوسائٹی کے کارکنوں کا مقبوضہ کشمیرکی بگڑتی ہوئی صورتحال پر اظہارتشویش

سرینگر :بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سول سوسائٹی کے کارکنوں نے کہا ہے کہ بھارتی قابض انتظامیہ نے پورے علاقے میں محاصرے، چھاپوں اور جبری گرفتاریوں کاسلسلہ تیز کردیاہے ۔جس کی وجہ سے کشمیریوں کو شدیدظلم و تشددکا سامنا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سرینگر میں میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے سول سوسائٹی کے کارکنوں نے کہا کہ کشمیریوں کو روزانہ محاصرے، چھاپوں، تلاشیوں اور جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ ماورائے عدالت قتل،دور ان حراست تشدد اور جبری نظربندیاں ایک معمول بن چکی ہیں۔ بھارتی حکام کشمیریوں کی نظربندی کو طول دینے کے لیے کالے قوانین کا بے دریغ استعمال کررہے ہیں اور املاک پر قبضے کو عوام کو ڈرانے اور خاموش کرنے کے لیے ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کیا جا رہا ہے۔سول سوسائٹی کے کارکنوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ کشمیری مسلم ملازمین کو آبادیاتی اور انتظامی تنظیم نو کے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان ملازمت سے بر طرف کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کو ایک بھاری فوجی چھائونی میں تبدیل کر دیا ہے جہاں تمام بنیادی حقوق سلب ہیں۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کو معلوم ہونا چاہیے کہ ظلم و تشدد اور فوجی طاقت کے وحشیانہ استعمال سے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے چیلنجوں کے باوجود کشمیری اپنی جدوجہد آزادی ثابت قدمی سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔





