بھارت نے بات چیت کے بجائے طاقت کا استعمال کر کے سکھوں کے غم و غصے کو تیز کیا

سکھ خالصتان تحریک کو ہرقیمت پر اسکے منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم
نئی دلی: 1984 کے بھارتی پنجاب کے بحران کے دوران مذاکرات پر فوجی کارروائی کو ترجیح دینے کے بھارتی حکومت کے فیصلے نے سیاسی کشیدگی کو گہرا کیا اور سکھوں میں بڑے پیمانے پر غم وغصے کو ہوا دی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نئی دہلی نے مذاکرات میں سنجیدگی سے کام نہیں لیا اور پرامن تصفیہ کی وکالت کرنے والی اعتدال پسند آوازوں کو نظرانداز کر دیا ۔ بھارتی حکام نے کرفیو، میڈیا بلیک آو¿ٹ نافذ کر دیا اور پنجاب بھر میں فوج کو تعینات کر دیا ، گولڈن ٹیمپل پر چڑھائی کی اور ساتھ ساتھ دیگر درجنوں گردواروں کو فوجی محاصرے میں لیا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ُاس وقت کی بھارتی حکومت نے ان سفارشات کو قطعی طور پر نظر انداز کیا کہ طاقت کا استعمال صرف آخری حربے کے طور پر کیا جانا چاہیے، اسکے بجائے اس نے گولڈن ٹیمپل کمپلیکس کے اندر فوجی آپریشن کو آگے بڑھایا اور مواصلات اور میڈیا کی کوریج پر پابندیوں کے ذریعے اپنے مظالم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ۔
سیاسی تجزیہ کاروں نے مزید کہا کہ اس آپریشن نے بھارت بھر میں اور بیرون ملک مقیم سکھوں میں شدید ناراضگی کو جنم دیا، جس کے طویل المدتی نتائج برآمد ہوئے۔ تجزیہ نگاروںنے کہا کہ بھارتی حکومت کے اس قدر جبر کے باوجود سکھوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے اور خالصتان کے نام سے اپنے لیے ایک الگ وطن کے قیام کے حوالے سے ان کی آواز میں بالکل کمزوری نہیں آئی ۔ انہوںنے کہا کہ برطانیہ ، امریکہ ، کینیڈا اور دیگر ملکوں میں سکھوں کے کامیاب خالصتان ریفرنڈم اس بات کی دلیل ہے کہ سکھ بھارت کے ساتھ رہنے کیلئے ہرگز تیار نہیں ہیں اور وہ خالصتان تحریک کو ہرقیمت پر اسکے منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہیں۔







