جموں وکشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے
بھارت غیر ذمہ دارانہ بیانات کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے
اسلام آباد:پاکستان نے پھرواضح کیاہے کہ جموں وکشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے اور بھارت غیر ذمہ دارانہ بیانات کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کی سنگین صورتحال سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندارابی نے اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ بھارت غیرذمہ دارانہ بیانات سے مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے، کشمیر عالمی سطح پرتسلیم شدہ متنازع خطہ ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کشمیر کیعوام سے انکے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کاوعدہ کیا گیاتھا۔ انہوں نے کہاکہ ، کشمیر سے متعلق بھارتی بیانات کی کوئی وقعت ہے نہ کوئی جواز ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے خبردار کیا کہ پاکستان کی بقا اور ترقی کے لیے ضروری پانی کو جان بوجھ کر روکنے کی کوئی بھی کوشش دور رس نتائج کی حامل ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پانی روکنے کے کسی بھی اقدام کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے گا اور یہ ممکنہ طور پر اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت جنگی اقدام کے مترادف سمجھا aجا سکتا ہے۔طاہر اندرابی نے کہاکہ بھارتی وزیر توانائی سی آر پٹیل کہاہے کہ آئندہ دنوں میں پانی کا ایک قطرہ بھی پاکستان نہیں جانے دیا جائے گا، بھارت اس پر کام کر رہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ پانی کو روکنے یا اس میں نمایاں کمی لانے کی کوئی بھی کوشش، جو 25 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی روزی روٹی، زراعت اور فلاح و بہبود کے لیے ناگزیر ہے، انتہائی غیر ذمہ دارانہ اقدام ہوگا، ایسا اقدام سرحد پار دریائوں سے متعلق بین الاقوامی ذمہ داریوں اور پاکستان و بھارت کے درمیان موجود دوطرفہ معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہوگا۔وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس تصور کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے کہ پانی کو سیاسی ہتھیار، دبا ئوڈالنے کے آلے یا زبردستی کے وسیلے کے طور پر استعمال کیا جائے، ایسا اقدام نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ اس سے باہر بھی علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، اگر ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرے کی ذمہ داری مکمل طور پر بھارت پر عائد ہوگی، پاکستان کے آبی وسائل سے متعلق حقوق اور مفادات ناقابلِ سمجھوتہ ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے ان حقوق کے دفاع کے لیے سفارتی، سیاسی، قانونی، اقتصادی اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق دستیاب دیگر تمام ذرائع کو بھرپور انداز میں استعمال کرے گا، پاکستان کی بقا اور ترقی کے لیے ضروری پانی کو جان بوجھ کر روکنے کی کوئی بھی کوشش ایک نہایت سنگین اقدام ہوگی جس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے، جیسا کہ پاکستان کی اعلی قیادت پہلے ہی واضح کر چکی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ریاست کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، اور پاکستان اپنی معیشت، قومی مفادات اور 25 کروڑ عوام کی جانوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا، بھارت ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام کرے اور ایسے بیانات اور اقدامات سے گریز کرے جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔






