گجرات میں مسلمانوں کے 100مکان مسمار ، حکام کاذمہ داری قبول کرنے سے انکار

گاندھی نگر;بھارتی ریاست گجرات میں مسلم اکثریتی آبادی پر مشتمل ایک بستی میں تقریبا 100مکانات کی مسماری کے بعد شدید غم و غصہ پایا جا تا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق یہ انہدامی کارروائی 30مئی سے یکم جون کے درمیان گجرات کے دوسرے بڑے شہر اور اہم صنعتی و ٹیکسٹائل مرکز سورت کے کٹار گام علاقے میں واقع ناصر نگر نامی بستی میں کی گئی ۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ بلڈوزروں نے بغیر کسی پیشگی نوٹس کے گھروں کو منہدم کیا جس کے نتیجے میں درجنوں خاندا ن کھلے آسمان تلے زندگی گزار نے پر مجبور ہو گئے ہیں ، ان کی برسوں کی جمع پونجی اور گھریلو سامنا ملبے کا ڈھیر بن گیا۔اتنی بڑی بلڈوزر کارروائی کا ایک قابل غور پہلو یہ ہے کہ اسکی ذمہ دار ی کوئی بھی سرکاری محکمہ قبو ل کرنے کو تیار نہیں ہے
۔ متاثرہ مسلمانوں نے سوال اٹھا یا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے کی کارروائی ریاستی منظور ی کے بغیر کیسے ممکن ہو سکتی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ جب کھدائی کرنیوالی مشینیں گھروں کو منہدم کر رہی تھیں تو خواتین اور بچے اہلکاروں سے فریاد کر تے رہے لیکن ان کی کسی نے نہیں سنی۔





