بھارت

بھارت : مسلم امیدوار کو مذہب کی بنیاد پر انٹرویو میں بیٹھنے نہیں دیا گیا

بنگلورو: بھارت میں ایک مسلم امید وار کو محض مذہب کی بنیاد پر انٹرویو میں بیٹھنے کی اجازت دینے سے انکار کیا گیا ہے۔مذہبی امتیاز کے اس عمل نے سوشل میڈیا بڑے پیمانے پر بحث چھیڑ دی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق قانون کے ایک طالب علم نے کہا ہے کہ ایک مسلم امید وار کو صرف اس کے مذہیب کی بنیاد پرانٹرویو کا موقع دینے سے انکار کیا گیا ہے۔ اس واقعے نے بھرتی کے عمل میں مساوی مواقع ، انصاف اور غیر جانبدار کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ریاست کرنانک کے دارلحکومت بنگلورو سے تعلق رکھنے والے قانون کے ایک طالب علم محمد امین نے اپنی ایک شوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ انکے ایک دوست نے ملازمت کیلئے درخواست دی تھی اور وہ بھرتی کے معمول کے عمل سے گزرنے کی توقع کر رہا تھا تاہم میرے اس دوست کو اسکی مذہبی شناخت کی وجہ سے انٹرویومیں شرکت کا موقع نہیں دیا گیا ۔ محمد امین نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک وٹس ایپ گفتگو کا سکرین شارٹ بھی شیئر کیا جس میں ایک بھرتی کنندہ نے لکھا تھا ” وہ مسلمان ہے ، لہذا ہم دلچسپی نہیں رکھتے ۔”
محمد امین کی اس شوشل میڈیا پوسٹ پرشدید بحث شروع ہو گئی ہے اور کئی صارفین نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا کسی امیدوار کی اسکی مذہبی شناخت کو بھرتی کے فیصلوں پر اثر انداز ہونا چاہیے ۔ صارفین نے لکھا کہ ملازمتوں میں انتخاب صرف قابلیت ، تعلیمی اہلیت اور پیشہ وارانہ صلاحیت کی بنیاد پر ہونا چاہیے نہ کی مذہب ، ذات پات یا پس منظر کی بنیاد پر۔
قانونی ماہرین اور مبصرین کا بھی کہنا ہے کہ مساوی مواقع ایک جمہوری معاشرے کا بنیادی اصول ہے اور اگر مذہبی بنیادوں پر کسی کو نظر انداز کرنے کی بات درست ثابت ہوتی ہے تو یہ انتہائی تشویشناک معاملہ ہے ۔ کئی صارفین نے لکھا کہ جانبداری کے ایسے معاملات باصلاحیت امیدواروں کو مواقع حاصل کرنے سے بددل کرسکتے ہیں ، برسوں کی محنت اور تعلیمی جدوجہد کو امتیازی سلوک کی نذر نہیں ہوناچاہیے.

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button