بھارت

مختلف ہندو تنظیموں اور رہنمائوں کی طرف سے مسلمانوں کی حمایت اوراجتماعی خاموشی ترک کرنے کا اعلان

واشنگٹن 29 اپریل (کے ایم ایس)
مختلف ہندو تنظیموں اور مذہبی رہنمائوں نے "ہم اپنے مسلمان بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں”کے بیان کی حمایت کی ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق امریکہ میں قائم ہندوز فار ہیومن رائٹس کے بیان جس پر کئی ہندو تنظیموں اور رہنمائوں کے دستخط موجود ہیں میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر کے ہندوں کے لیے ہندوتوا کی طرف سے بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف پھیلائی جانے والی نفرت اورظلم و تشدد کے خلاف اجتماعی خاموشی توڑ نے کاوقت آگیا ہے ” ۔ بیان میں کہاگیا ہے کہ ہم اپنے مسلمان بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ہندوئوں کے طور پر، ہمیں یہ تسلیم کرنے کے لیے کہا جاتا ہے کہ رب تمام جانداروں میں یکساں طور پر موجود ہے۔ اس پہچان کا تقاضا ہے کہ ہم تمام مخلوقات کااحترام کریں اور انساور ہمدردی کی خوبیوں پر عمل کریں۔ افسوس کی بات ہے کہ ہم یہ خط ایک ایسے وقت میں لکھ رہے ہیں جب ہندوستان میں ہندو مذہب کے نام پر مسلمان بہن بھائیوں کے خلاف ظلم و تشدد تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ متنوع ہندو روایات کے نمائندوں کے طور پر ہم ہندوستان اور بیرون ملک ہندو لیڈروں کو کھلے عام ہندوبالادستی کے نظریہ ہندوتوا پر عمل کرتے ہوئے دیکھ کر پریشان ہیں۔ایک صدی پرانا یہ سیاسی نظریہ جو دوسرے مذاہب کے شہریوں کو فطری طور پر غیر ملکیوں کے طور پر دیکھتا ہے اور بھارتی شہریت کے تمام حقوق کا اہل نہیںمانتاہے۔گزشتہ سال دسمبر میںہریدوار میں نام نہاد دھرم سنسد کے دوران زعفرانی ہندو سادھوں، سادھویوں اور سوامیوں کی تصاویر اور ویڈیوز میں مسلمانوں کی نسل کشیُ کے اعلانات،کالج کے طلبہ کی طرف سے بنائی گئی ایک ایپ پر مسلم خواتین کو "نیلامی” کے لیے پیش کئے جانے اور کرناٹک میں حجاب پہننے والی مسلم لڑکیوں کویکساں تعلیم کے حق سے محروم کرنے جیسے واقعات کو ہرگز نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔ بیان کے مطابق دنیا کے کسی بھی ملک میں ہندوئوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف تشدد کسی بھی طرح سے،بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف تشدد کا جواز نہیں بن سکتا۔اس خط پر دستخط کرکے ہم عہد کرتے ہیں:مسلم مخالف الفاظ اور اقدامات جب بھی ہماری کمیونٹیز میں ظاہر ہوں ان کے خلاف بات کریں گے،ہماری برادریوں میں موجودمسلم ہمسایوں ، رہنمائوں اور اداروں کے ساتھ تعلقات استوار اور مضبوط کریں گے اورمذہبی پس منظر سے قطع نظر اپنے مندروں اور گھروں کو سب کے لیے کھلا رکھیں گے ۔ہندوز فار ہیومن رائٹس کے بیان بہت سے ہندو تنظیموں اور رہنمائوں کے دستخط موجود ہیں۔

متعلقہ مواد

Leave a Reply

Back to top button
%d