بھارت یوکرین دفاعی تعاون سے روس کے خلاف دہلی کا دوہرا کھیل بے نقاب

نئی دہلی:یوکرین کے ساتھ نئی دہلی کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات نے بھارت کے دہرے کھیل کو بے نقاب کر دیا ہے جو ایک طرف روس کو یقین دہانی کراتا ہے کہ وہ اس کے ساتھ کھڑا ہے اوردوسری طرف میدان جنگ میں اس کے دشمن یوکرین کے ساتھ خاموشی سے فوجی تعاون بڑھارہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اگست 2024 میں مودی کے یوکرین دورے کے موقع پر فوجی اورتیکنکی تعاون پربات چیت کا آغاز کیاگیا جس میں دونوں فریقین نے فوجی و تیکنکی تعاون کے حوالے سے بھارت یوکرین مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام پر اتفاق کیا۔اپریل 2026 میں صدر زیلنسکی نے اعلان کیا کہ بھارت کے ساتھ باقاعدہ سیکورٹی تعاون کو حتمی شکل دی جا رہی ہے،جبکہ بھات سستا روسی تیل، ہتھیار، پرزہ جات اور اسٹریٹجک مددبھی حاصل کرتا رہا ، وہ بیک وقت یوکرین کے ساتھ دفاعی روابط استوار کر رہا ہے اورروس سے بھی فائدہ اٹھا تا رہا۔موجودہ تعاون میں 30MKI SU-کے لئے آلات،RD-33، R-25انجن کے پزرہ جات اور -1M Igla میزائل تجدیدکاری سے متعلق بی ڈی ایل معاہدے سمیت ایچ اے ایل معاہدے شامل ہیں۔ بھارت اب ہدف کو تلاش کرنے والے میزائل نظام، فضائی دفاعی نظام، توپ خانے،An-32کے پرزہ جات ، ایرو انجن، میرین گیس ٹربائنز، ڈرونز، الیکٹرونک وارفیئر اور اینٹی یو اے ایس ٹیکنالوجیز میں گہرے تعاون کا خواہاں ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کا موقف غیر جانبداری نہیں بلکہ خالص موقع پرستی ہے۔ نئی دہلی نے ماسکو کو عوامی طور پر یقین دلایا، یوکرین سے خاموشی سے میدان جنگ میں آزمائی گئی ٹیکنالوجیز حاصل کیں اور مغربی ممالک کو بات چیت میں مصروف رکھا۔بھارت نے سوویت یونین دور کے روسی سازوسامان پر انحصار کو کم کرنے کے لیے یوکرین کا استعمال کیا اوروہ زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے دونوں طرف سے کھیل رہا ہے۔یہ دوہرا کھیل بھارت اور روس کے درمیان اعتماد کی حدود کو بے نقاب کرتا ہے۔ جہاں ماسکو بھارت کو Su-57جیسے جدید پلیٹ فارم فراہم کرنے جارہا ہے، وہیں بھارت یوکرین کے جنگ میں آزمودہ دفاعی نظام حاصل کرنے میں مصروف ہے۔بھارت کی اصل پالیسی واضح ہے جوکسی شراکت دار کے ساتھ وفاداری نہیں بلکہ سوچی سمجھی موقع پرستی ہے، بھارت ایک طرف روسی تیل خریدرہا ہے، روسی ہتھیارحاصل کررہاہے اوردوسری طرف روس کے خلاف آزمائی گئی ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھارہا ہے۔






