امریکہ ایران امن معاہدے میں پاکستان کے کردار پر بھارتی میڈیا میں سناٹا
سبوتاژکی بھارتی کوششوں کے باوجود پاکستان کی سفارتی کوششیںرنگ لے آئیں
اسلام آباد: امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدے میں پاکستان کی کامیاب ثالثیکابین الاقوامی سطح پر اعتراف کیاجارہا ہے لیکن پاکستان کی اس سفارتی کامیابی پربھارتی میڈیا میں سناٹا چھایا ہوا ہے جس سے پاکستان کے بارے میں بھارت کا بیانیہ بے نقاب ہو گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدے کے متن کو 14 جون 2026 کو حتمی شکل دی گئی تھی جس پر باضابطہ دستخط 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہو نے والے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے تصدیق کی کہ پاکستان، قطر اور دیگر ممالک نے سہولت کاری کا کردار ادا کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی معاہدے کی تکمیل اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ آبنائے ہرمز تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھلنے کے لیے تیار ہے۔جب بھارتی میڈیا پر اس معاہدے پر مباحثے ہوئے تو اس نے پاکستان کے مثبت کردار کا ذکر تک نہیں کیا۔ اس سے قبل بھارت کے نام نہاد تجزیہ کار یہ پروپیگنڈہ کررہے تھے کہ پاکستان واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدہ نہیں کراسکتا۔بھارت کے وزیر خارجہ نے بھی پاکستان کی کوششوں پر شکوک وشبہات پیدا کرنے کے لیے غیر سفارتی زبان استعمال کی۔ ایران نے باضابطہ طور پر بھارتی میڈیا کی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے مذاکرات کے بارے میں بے بنیاد پروپیگنڈہ نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی خاموشی ثابت کرتی ہے کہ اس کا تیار کردہ بیانیہ ناکام ہوچکا ہے جبکہ سبوتاژکی بھارتی کوششوں کے باوجود پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں۔






