بھارت کے سابق چیف جسٹس کی طرف سے ملک میں بلاجوازگرفتاریوں کا اعتراف

ممبئی 22نومبر (کے ایم ایس)
بھارت میں مودی کی ہندوتوا حکومت کی طرف سے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کے تحت گرفتاری کے دوران سابق چیف جسٹس آف انڈیا یو یو للت نے اعتراف کیا ہے کہ سول تنازعات کو اب مجرمانہ رنگ دیا جا رہا ہے اور بلا جواز طورپر گرفتاریاں کی جارہی ہیں جس سے عدالتی نظام پر بوجھ بڑھ ہے۔
سابق چیف جسٹس نے ان خیالات کا اظہار ممبئی ہائی کورٹ میں جسٹس کے ٹی ڈیسائی میموریل لیکچرسے خطاب کر تے ہوئے کیا۔کشمیری نظربندوں کی حالت زار کا اندازہ سابق بھارتی چیف جسٹس کے اس بیان سے لگایا جا سکتا ہے کیونکہ بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں روزانہ کی بنیاد پر درجنوں افراد کوگرفتار کر کے جیلوں میں قید کر دیا جاتا ہے ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ممبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دیپانکر دتا نے بھارتی سپریم کورٹ کے حالیہ حکم کاحوالہ دیا جس کے تحت جیل میں قید انسانی حقو ق کے کارکن گوتم نولکھاکو گھر میں نظر بند رکھنے کی اجازت دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایک متعصب یا لاتعلق عدالتی نظام کا نتیجہ انصاف سے انکار اور بے گناہ افراد کی بلا جواز گرفتاری ہو گی۔ انہوں نے عدالت عظمی کے متعدد فیصلوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایک مقدمے کا حوالہ دیا جس میںگرفتاریوں سے متعلق پولیس کے لیے رہنما اصول وضع کیے گئے تھے۔انہوں نے کہاکہ اگر ایک موثر اور موثر فوجداری نظام انصاف موجود نہ ہو تو انارکی کی حکمرانی قانون کی حکمرانی کی جگہ لے لے گی۔سابق چیف جسٹس للت نے مودی حکومت کا نام لیے بغیر تسلیم کیا کہ حالیہ دنوں میں اکثر بلا جواز طورپر گرفتاریاں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گرفتاریاں بغیر کسی وجہ کے کی جارہی ہیں اور سول تنازعات کو فوجداری معاملات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور اس سے عدالتی نظام پر بوجھ پڑرہا ہے۔سابق چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ہندوستانی جیلوں میں 80فیصد قیدیوں کے مقدمات زیر سماعت ہیں ۔بھارت کے عدالتی اور تفتیش کے نظام کو مزید بے نقاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ایک بلی چوہے کوپکڑنے کیلئے اس کا پیچھا کرتی ہے تاہم اگر دس سال تک چوہے کا تعاقب کرنے کے بعد بلی کو پتہ چلے کہ چوہا دراصل خرگوش تھا تو اس سے معاشرے کی کوئی بھلائی نہیں ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ مجسٹریٹ شاذ و نادر ہی تفتیشی ٹیم سے یہ سوال کرتے ہیں کہ حراست کی ضرورت کیوں ہے اور تفتیش میں کیا پیش رفت ہے۔سابق چیف جسٹس نے کہاکہ فوجداری نظام انصاف کے بعض شعبوں میں تفتیش سے لے کر حتمی سزا تک کے پورے نظام کی اصلاح کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ہزاروں افرادبلاجواز طورپر بھارت کی جیلوںمیں طویل عرصے سے قید ہیں۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: