مقبوضہ کشمیر : ژالہ باری سے سیب کے باغات متاثر
کشمیری کاشت کاروں کا کراپ انشورنس اور معاوضے کا مطالبہ
سرینگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں حالیہ شدید ژالہ باری نے سیب کے باغات کو نقصان پہنچا دیا، جس کے باعث کشمیری کاشت کاروں اور پھلوں کے تاجروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق متاثرہ کاشت کاروںنے بھارتی قابض انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سیب کی فصل کو فوری طور پر کراپ انشورنس اسکیم میں شامل کیا جائے اور نقصان کا مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے۔کشمیر کی معیشت میں باغبانی کا شعبہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور ہزاروں خاندان براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔ تاہم گزشتہ چند برسوں سے موسمیاتی تبدیلیوں، غیر متوقع بارشوں اور ژالہ باری کے بڑھتے ہوئے واقعات نے باغبانی کے شعبے کوبری طرح متاثر کیا ہے۔حالیہ ژالہ باری کے نتیجے میں ضلع پلوامہ کے یاڈر، نِکاس، ازرام پتھری اور دیگر کئی دیہات میں سیب کے باغات، خصوصا ہائی ڈینسٹی باغات، کو نقصان پہنچا ہے۔کشمیری کاشت کاروں کے مطابق فصل کو ہونے والے نقصان سے ان کی سال بھر کی محنت اور آمدنی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔متاثرہ کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ وہ کئی برسوں سے سیب کی فصل کو کراپ انشورنس اسکیم میں شامل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن اس حوالے سے اب تک کوئی موثر پیش رفت نہیں ہو سکی۔ انہوں نے ژالہ باری سے ہونے والے نقصانات کا فوری تخمینے اور متاثرہ باغبانوں کیلئے مناسب مالی امداد کا م مطالبہ کیا ۔باغبانوں نے اینٹی ہیل نیٹس اور دیگر حفاظتی آلات پر سبسڈی میں اضافے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ مستقبل میں قدرتی آفات سے فصلوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔





