انسانی حقوق کی امریکی تنظیم کا بھارت میں مساجد کی پے در پے مسماری پراظہار تشویش

واشنگٹن:انسانی حقوق کی ایک امریکی تنظیم ” جسٹس فار آل ”نے بھارت میں مساجد کی پے در پے مسماری پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق جسٹس فار آل نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مساجد کی مسماری ملک کی مسلم اقلیت کے خلاف امتیازی سلوک کے بڑھتے ہوئے واقعات کا غماز ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں اتر پردیش ،راجستھان میں محض پانچ دونوں میں تین مساجد کو مسمار کیا گیا۔ مساجد کوانسداد تجاوزات کے نام پر مسمار کیا جا رہا ہے حالانکہ بھارت بھر میں عوامی زمینوں، سڑکوں اور دیگر سرکاری املاک پر بنائے گئے متعدد ہندو مندروں کو ایسی کسی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑا، جس سے قانون کے غیر مساوی اطلاق پر سوالات اٹھتے ہیں۔تنظیم نے کہا کہ مساجد کے حالیہ انہدام کو الگ تھلگ واقعات کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئے بلکہ اسے مسلم مخالف بیان بازی، نفرت انگیز مہمات اور بھارت میں مذہبی اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے دبائو کے وسیع ماحول کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔
تنظیم نے کہا کہ بھارت میں مذہبی رواداری اور تکثیریت مسلسل ختم ہورہی ہے، مسلمانوں اور عیسائیوں کو مذہبی آزادی کی آئینی ضمانتوں کے باوجود بڑھتے ہوئی عدم تحفظ کا سامنا ہے۔






