جموں کی کچی آبادی میں کارروائی کے دوران 9 افراد گرفتار

جموں:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی پولیس نے جموں میں تریکوٹہ نگر کی کچی آبادی مراٹھا محلے میں محاصرے اور تلاشی کی ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے 9 افرادکو گرفتارکر لیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حکام نے بتایاکہ پولیس ٹیموں نے علاقے میں 200 سے زیادہ جھگیوں (جھونپڑیوں) کی تلاشی لی۔ آپریشن کی نگرانی ایس پی ساو¿تھ زون جموں نے کی۔ پولیس نے اس کارروائی کو انسداد منشیات اور سماج دشمن عناصرکے خلاف مہم کا ایک حصہ قراردیا۔ مبصرین نے اسے بی جے پی انتظامیہ کی طرف سے جموں خطے میں غریب بستیوں کو نشانہ بنانے کی ایک اور مثال قراردیا جہاں اکثرمسلمان اور اقلیتی برادریوں کے لوگ رہتے ہیں۔ناقدین کا کہنا ہے کہ رہائشی علاقوں اور کچی آبادیوں میں محاصرے اور تلاشی کی اس طرح کی باربار کارروائیاں نہ صرف خوف وہراس کا ماحول پیدا کرتی ہیں بلکہ امن و امان کو برقرار رکھنے کی آڑ میں ان کارروائیوں کو مقامی آبادی کوکنٹرول کرنے کے لئے ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کیاجارہا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہناہے کہ ان کارروائیوں سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرناپڑتا ہے، املاک کو نقصان پہنچایا جاتا ہے، اور پورا علاقہ بدنام ہوجاتا ہے۔پولیس نے بتایا کہ گرفتارکئے گئے نو افراد سے فی الحال پوچھ گچھ جاری ہے۔






