ہزاروں سال کا برف قصہ پارینہ بن رہا ہے، تھجی واس گلیشیئر تیزی سے پگھلنے پر ماہرین کو تشویش

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سونہ مرگ کے مشہور تھجی واس گلیشیئرکا برف تیزی سے پگھلنے پر مقامی باشندوں کے ساتھ ساتھ سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد اور ماہرین ماحولیات کی تشویش بڑھ رہی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سیاحتی سرگرمیوں سے وابستہ گھوڑے بان اور گائیڈز کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران گلیشیئر اور اس کے اطراف کے برف پوش علاقے نمایاں طور پر سکڑ گئے ہیں جس سے سیاحوں کی دلچسپی اور روزگار پر اثر پڑ رہا ہے۔سونہ مرگ میں دریائے سندھ کے کنارے پھیلے سرسبز میدان کے اوپر برف سے ڈھکی چمکتی چوٹیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے 40 سالہ ریاض احمد نامی ایک گھوڑے بان نے کہا کہ اسے مقامی طور پر”ہزاروں سال کا برف“کہا جاتا ہے جو برفانی دور سے چلی آ رہی برف کی طرف اشارہ ہے۔ یہ اصطلاح نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہے تاکہ سیاحوں میں تجسس پیدا ہو اور وہ گھوڑوں پر سوار ہو کر دشوار گزار پہاڑی راستے کا سفر کرنے کی طرف مائل ہو جائیں۔ریاض احمد روزانہ شتکاری گاوں سے تقریباً ایک کلومیٹر پیدل چل کر سونہ مرگ پہنچتے ہیں۔ سونہ مرگ یعنی”سونے کا میدان“۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ اصطلاح سیاحوں کو تھجی واس گلیشیئر کی طرف راغب کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ مجھے نہیں معلوم کہ اس اصطلاح کی اصل کیا ہے، لیکن ہم نے اپنے بزرگوں سے یہ نام سنا اور اسی کے ذریعے سیاحوں کو تھجی واس گلیشیئر کی طرف لے جاتے ہیں۔ریاض احمد اپنی نصف زندگی سے پہاڑی راستوں پر سفر کر رہے ہیں۔ دریائے سندھ کے کنارے واقع یہ سیاحتی مقام مئی تک شدید سردی کی زد میں رہتا تھا اور لوگ گرم ملبوسات زیب تن کرتے تھے۔ تاہم اب بالائی علاقوں خاص کر پہاڑی علاقوں میں بدلتے موسمی حالات مقامی لوگوں کے روزگار کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے مئی تک ڈھلوانیں اور میدان برف سے ڈھکے رہتے تھے، اس لیے گھوڑوں کو اوپر لے جانا ممکن نہیں ہوتا تھا۔ جون میں ہم سیاحوں کو گھوڑوں پر تھجیواس گلیشیئر کی نشیبی ڈھلوان تک لے جاتے تھے، جہاں موٹی برف جمی ہوتی تھی۔ اگست تک یہ برف پگھل جاتی تھی اور اکتوبر میں دوبارہ برفباری شروع ہو جاتی تھی۔ان کے مطابق گزشتہ دس برسوں میں صورتحال مکمل طور پر بدل گئی ہے۔ اب تھجی واس کی ڈھلوان اپریل میں ہی برف سے خالی ہو جاتی ہے۔ 3500 میٹر سے زیادہ بلندی پر واقع یہ گلیشیئر ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہتا ہے۔ مرکزی سڑک سے تقریباً سات کلومیٹر دور واقع اس مقام تک پہنچنے کے لیے سیاح کچے راستوں پر گھوڑوں کی سواری کرتے ہیں تاکہ برف کا نظارہ کر سکیں۔ریاض احمد نے بتایا جب سیاح گھوڑوں سے اترتے ہیں تو برف نہ ہونے پر مایوس ہو جاتے ہیں۔ بعض لوگ غصے میں کرایہ دینے سے بھی انکار کر دیتے ہیں۔ وہاں اب صرف سبز گھاس، ننگی زمین اور چٹانیں نظر آتی ہیں۔
گزشتہ 15 برس سے سیاحتی گائیڈ کے طور پر کام کرنے والے فیاض احمد شیخ کا کہنا ہے کہ 2017 میں وہ تھجی واس گلیشیئر کے پیچھے دوری نار تک گئے تھے جہاں انہوں نے ایک حیران کن تبدیلی دیکھی۔ انہوں نے کہااس سے پہلے جب بھی میں اس راستے پر گیا، مجھے صرف تھجیواس 1 اور تھجیواس 2 کی دو جھیلیں نظر آتی تھیں جبکہ باقی علاقے برف سے ڈھکے رہتے تھے۔ لیکن 2017 میں گلیشیئر کے پگھلنے سے تھجیواس 3 نامی تیسری جھیل بھی نمایاں ہو گئی۔ان مشاہدات کی تصدیق مختلف سائنسی مطالعات بھی کرتے ہیں۔ کشمیر یونیورسٹی اور نئی دہلی کے انٹر یونیورسٹی ایکسلریٹر سینٹر کے محققین کی ایک تحقیق کے مطابق آخری برفانی دور یعنی تقریباً 20,770 سال پہلے تھجی واس گلیشیئر کا رقبہ 54 مربع کلومیٹر تھا جو اب سکڑ کر تقریباً 2.76 مربع کلومیٹر رہ گیا ہے۔ یعنی گلیشیئر اپنے اصل حجم کا تقریباً 95 فیصد کھو چکا ہے۔کشمیر یونیورسٹی کے ماہر ارضیات پروفیسر غلام جیلانی اس گلیشیئر کے سکڑنے کی بنیادی وجہ گلوبل وارمنگ کو قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ تھجی واس گلیشیئر کا سکڑنا ایک اہم معاملہ ہے۔ یہاں اب بہت سی زمینی ساختیں اور قدرتی نشانیاں نمایاں ہو گئی ہیں جو اس بات کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہیں کہ گلیشیئر کے سکڑنے میں کون سے عوامل کارفرما رہے۔1986 سے تھجیواس کی چوٹیوں پر اسکیئنگ کرنے والے معروف مہم جو رو¿ف ترمبو نے کہا کہ جب بھی میں گلیشیئر جاتا ہوں تو اس سے جڑی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں، لیکن دو ہفتے قبل جب میں وہاں گیا تو گلیشیئر کو مزید سکڑا ہوا دیکھ کر دل دکھی ہو گیا۔ان کے مطابق اس علاقے میں ایڈونچر ٹورازم کی بڑی صلاحیت موجود ہے، لیکن بے ہنگم تعمیرات اور کنکریٹ کے ہوٹلوں نے اس کے حسن کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ جگہ پہلے جیسی خوبصورت نہیں رہی۔ اس کے علاوہ نئی سڑک کی تعمیر نے بھی سونہ مرگ پر دباو¿ بڑھا دیا ہے۔نئی تعمیر شدہ زیڈ مور ٹنل نے سونہ مرگ کو پورا سال قابل رسائی بنا دیا ہے۔ریاض احمد بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ پہلے نومبر میں برفباری شروع ہوتے ہی تمام سرگرمیاں بند ہو جاتی تھیں کیونکہ پورا سونہ مرگ برف سے ڈھک جاتا تھا۔انہوں نے کہا کہ اب ہم سال کے بارہ مہینے کام کرتے ہیں کیونکہ سردیوں میں برف بہت کم پڑتی ہے۔ اس سال برفباری کے دوران صرف 20 دن کا وقفہ رہا، باقی پورا موسم سرما گھوڑے چلتے رہے کیونکہ برف نہ ہونے کے برابر تھی۔








