مضامین

بھارتی جیلوں میں اسیرانِ حریت: ایک خاموش انسانی المیہ

مشتاق احمد بٹ

اسیرانِ حریت کی داستان صرف افراد کی قید کی کہانی نہیں بلکہ یہ ایک ایسے انسانی المیے کی عکاسی کرتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک پھیل جاتے ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے بہت سارے کشمیری حریت پسند بھارتی جیلوں میں پابندِ سلاسل ہیں۔ ان میں سے بعض نے اپنی جوانی قید میں گزاری، بعض ادھیڑ عمری میں داخل ہوئے اور بعض بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ گئے، مگر ان کی زندگی کے قیمتی سال آزادی کی فضا میں نہیں بلکہ بھارتی جیلوں کی بلند دیواروں اور آہنی سلاخوں کے درمیان گزرے۔
ان کے لیے وقت محض کیلنڈر کے بدلتے صفحات کا نام نہیں رہا بلکہ زندگی کے وہ لمحے تھے جو ہمیشہ کے لیے ان سے چھین لیے گئے۔

طویل اسیری کا درد صرف قیدی تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کا دائرہ اس کے پورے خاندان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
ایک نوجوان جب گرفتار ہوتا ہے تو اس کے والدین، شریکِ حیات اور بچے بھی ایک ایسی آزمائش میں داخل ہو جاتے ہیں جس کی مدت اور انجام دونوں غیر یقینی ہوتے ہیں۔ کئی مائیں اپنے بیٹوں کی واپسی کی امید لیے دنیا سے رخصت ہو گئیں، کئی باپ اپنے بیٹوں کو آزاد دیکھنے کی خواہش دل میں لیے قبروں میں اتر گئے، جبکہ بے شمار بچوں نے اپنے والد کی شفقت اور رہنمائی کے بغیر جوانی کی دہلیز عبور کی۔ ان خاندانوں کے لیے ہر عید، ہر خوشی اور ہر خاندانی اجتماع ایک ایسی ادھوری کہانی بن جاتا ہے جس میں ایک اہم کردار ہمیشہ غائب رہتا ہے۔

اسیری کی یہ طویل مدت صرف جسمانی آزادی کی محرومی نہیں بلکہ ایک گہرا نفسیاتی اور جذباتی امتحان بھی ہے۔ انسانی شخصیت تعلق، محبت، گفتگو اور سماجی روابط کے ذریعے نشوونما پاتی ہے۔ جب ایک انسان برسوں سے ایک تاریک کال کوٹھری کے گھٹن ذدہ ماحول، مسلسل نگرانی، غیر یقینی مستقبل اور اپنے پیاروں سے دوری کی کیفیت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو تو اس کے اثرات اس کی ذہنی اور جذباتی صحت پر مرتب ہونا فطری امر ہے۔
قیدِ تنہائی، ملاقاتوں پر پابندیاں، دور دراز جیلوں میں منتقلی اور طویل عدالتی کارروائیاں اس اذیت میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔ ایسے حالات میں قیدی نہ صرف اپنی آزادی سے محروم ہوتا ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ زندگی کے ان حسین لمحات سے بھی محروم ہو جاتا ہے جو ہر انسان کا بنیادی حق سمجھے جاتے ہیں۔

اس انسانی المیے کو سمجھنے کے لیے عالمی تاریخ کی معروف مثالوں پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔
جنوبی افریقہ کے عظیم رہنما نیلسن منڈیلا نے ستائیس برس قید میں گزارے۔ ان کی اسیری کو دنیا نے صرف ایک فرد کی قید نہیں سمجھا بلکہ اسے انسانی آزادی، مساوات اور انصاف کی جدوجہد کی علامت کے طور پر تسلیم کیا۔ عالمی ضمیر بیدار ہوا ، انسانی حقوق کی تنظیمیں متحرک ہوئیں، عالمی رہنماؤں نے آواز بلند کی اور میڈیا نے ان کی جدوجہد کو دنیا کے ہر کونے تک پہنچایا۔ بعد ازاں ان کی قربانیوں کو عالمی سطح پر تسلیم کرتے ہوئے انہیں نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔

نیلسن منڈیلا کی جدوجہد یقیناً احترام اور تحسین کی مستحق ہے، لیکن اسی تناظر میں ایک اہم سوال بھی جنم لیتا ہے۔ اگر ستائیس سالہ اسیری عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ سکتی ہے تو ان کشمیری اسیرانِ حریت کی چار چار دہائیوں پر محیط اسیری کیوں عالمی توجہ حاصل نہیں کر سکی ؟
اگر طویل اسیری ظلم اور ناانصافی کی علامت ہے تو کیا یہ اصول ہر انسان پر یکساں طور پر لاگو نہیں ہونا چاہیے؟ اگر انسانی وقار ایک آفاقی حق ہے تو پھر اس کے اطلاق میں جغرافیہ، قومیت اور سیاسی مفادات کیوں حائل ہو جاتے ہیں؟

یہ سوال کسی سیاسی مؤقف سے زیادہ انسانی حقوق کے بنیادی فلسفے سے متعلق ہے۔ انسانی حقوق کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کے اصول سب کے لیے یکساں ہوں۔ انصاف کی اصل روح یہی ہے کہ وہ طاقت، جغرافیہ اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ہر انسان کے وقار اور آزادی کو یکساں اہمیت دے۔
اسیرانِ حریت کی طویل اسیری اسی تناظر میں عالمی ضمیر کے لیے ایک سنجیدہ اخلاقی امتحان بن جاتی ہے۔

آج بھی بھارتی جیلوں کی کوٹھڑیوں میں ایسے بے شمار حریت قائدین و کارکنان موجود ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے بہترین سال قید میں گزار دیے ہیں۔ ان کے والدین کی قبریں ان کی واپسی کی منتظر رہیں، ان کے بچوں نے ان کی غیر موجودگی میں جوانی دیکھی، اور ان کے خاندانوں نے انتظار کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنا لیا۔ یہ صرف اسیران حریت کی داستان نہیں بلکہ انسانی استقامت، قربانی اور محرومی کی ایک ایسی تاریخ ہے جسے نظر انداز کرنا انسانی حقوق کے عالمگیر اصولوں سے انحراف کے مترادف ہے۔

اسیرانِ حریت کی خاموشی دراصل خاموشی نہیں بلکہ ایک سوال ہے؛ ایک ایسا سوال جو عالمی ضمیر کے دروازے پر مسلسل دستک دے رہا ہے۔ اگر آزادی ایک عالمگیر قدر ہے، اگر انسانی وقار ناقابلِ تقسیم حق ہے، اور اگر طویل اسیری ظلم کی علامت ہے، تو پھر دہائیوں سے پابندِ سلاسل انسانوں کی آواز دنیا کو کیوں سنائی نہیں دیتی؟ اور اگر انسانی حقوق واقعی آفاقی ہیں تو کیا وقت نہیں آ گیا کہ ان اصولوں کا اطلاق ہر انسان پر یکساں طور پر کیا جائے؟

 

مشتاق احمد بٹ آل پارٹیز حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر چپٹر کے رہنما ہیں

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button