مقبوضہ جموں و کشمیر

ڈی ایف پی کا مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری سیاسی جبر، معاشی استحصال پر اظہار تشویش

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے علاقے میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، سیاسی جبر، معاشی استحصال اور بنیادی آزادیوں پر مسلسل پابندیوں پر گہری تشویش کا اظہارکیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ڈی ایف پی کے جنرل سیکریٹر ڈاکٹر غلام رسول نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کی حتمی حیثیت کا تعین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہونا باقی ہے۔ یہ قراردادیں جموں و کشمیر کے عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کو تسلیم کرتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ تنازعے کے ایک فریق کی حیثیت سے بھارت پر لازم ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کی پابندی کرے لیکن بھارت مسلسل ان کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ تقریباً دس لاکھ بھارتی فوجی اورپیراملٹری فورسز کے اہلکار علاقے میں تعینات ہیں جس کے باعث جموں و کشمیر دنیا کے سب سے زیادہ فوجی جماﺅ والے علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ ڈی ایف پی رہنما نے کہاکہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ہزاروں کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ہزاروں نوجوان، سیاسی کارکن، انسانی حقوق کے محافظ اور آزادی پسند رہنما مختلف جیلوں میں قید ہیں جن میں شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، مسرت عالم بٹ، آسیہ اندرابی اور دیگر رہنما شامل ہیں۔ ان کی مسلسل نظربندی کشمیری عوام کی سیاسی آواز کو دبانے اور ان کے حقِ خودارادیت کے مطالبے کو کچلنے کی کوشش ہے۔انہوں نے جائیدادوں کی ضبطی، زمینوں پر قبضے، گھروں کی مسماری اور کاروباری اداروں کو نشانہ بنانے پر بھی شدید تشویش کا اظہارکیاجس سے ہزاروں کشمیری خاندان شدید معاشی مشکلات کا شکار ہوئے ہیں۔ اسی طرح متعدد سرکاری ملازمین کو شفاف قانونی کارروائی کے بغیر ملازمتوں سے برطرف کیاگیا ہے جس سے بے روزگاری اور معاشی عدم تحفظ میں اضافہ ہوا ہے۔ ڈی ایف پی کے جنرل سیکریٹری نے اقوام متحدہ، یورپی یونین، اسلامی تعاون تنظیم ، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور انصاف پسند ممالک سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، سیاسی قیدیوں کی طویل نظربندی، املاک کی ضبطی، معاشی استحصال ا ور شہری آزادیوں پر عائد پابندیوں کا فوری نوٹس لیں اوراقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد اور کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے مو¿ثر کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام اسی وقت ممکن ہے جب تنازعہ جموں و کشمیر کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے گا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button