بھارت

بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کا پہلا غیر ملکی دورہ ،بھارت کے بجائے ملائیشیا اورچین کاانتخاب

ڈھاکہ:بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان نے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لئے بھارت کے بجائے ملائیشیا اور چین کا انتخاب کیا جس سے سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھڑگئیہے اور اس اقدام کو ڈھاکہ کی بڑھتی ہوئی آزاد اور مفاد پر مبنی خارجہ پالیسی قراردیا جارہا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق طارق رحمان چھ روزہ دورے کے پہلے مرحلے پر اتوار کو ملائیشیا روانہ ہوئے جس کے بعد وہ چین بھی جائیں گےجہاں وہ سینئر چینی رہنماو¿ں کے ساتھ بات چیت اور سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے میں تعاون بڑھانے کے معاہدوں پر دستخط کریں گے۔یہ دورہ فروری میں طارق رحمان کے عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے دورے کی دعوت کے باوجود ہوا ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ طارق رحمان کے بھارت پر ملائیشیا اور چین کو ترجیح دینے کے فیصلے نے بنگلہ دیش بھارت تعلقات کی مستقبل کی سمت کے بارے میں قیاس آرائیوں کو ہوا دی ہے۔ جبکہ نئی دہلی میں حکام نے اس اقدام کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دورے کے انتخاب کی سفارتی اہمیت ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب علاقائی طاقتیں جنوبی ایشیا میں زیادہ سے زیادہ اثر و رسوخ کے لیے ایکدوسرے کامقابلہ کر رہی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہےکہ ملائیشیا بنگلہ دیشی کارکنوں کے لیے ایک اہم منزل ہے جبکہ چین بنگلہ دیش کے سب سے بڑے اقتصادی شراکت داروں میں سے ایک اور بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے والا ایک اہم ملکہے۔ ان کا موقف ہے کہ یہ دورہ ڈھاکہ کی توجہ کسی ایک علاقائی طاقت پر انحصار کرنے کے بجائے اقتصادی مفادات اور بین الاقوامی شراکت داری کے تنوع پر مرکوز ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طارق رحمان کی قیادت میں بنگلہ دیش قومی مفادات پر مبنی ایک متوازن خارجہ پالیسی پر عمل پیرا نظر آتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت کے بجائے کسی اورملک سے اپنے غیر ملکی مصروفیات شروع کرنے کا فیصلہ ڈھاکہ کی اس خواہش کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے وسیع تر ممالک کے ساتھ اسٹریٹجک اور اقتصادی تعاون کو بڑھائے۔اس پیش رفتکو پورے خطے میں قریب سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے جنوبی ایشیا میں مستقبل میں نئی سفارتی اور اقتصادی صف بندی ہو سکتی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button