مغربی بنگال میں مسلمان فیری والے کا قتل اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی عکاسی کرتا ہے: رپورٹ
نئی دہلی : بی جے پی کے زیر اقتداربھارتی ریاست مغربی بنگال میں ایک مسلمان فیری والے کے قتل کے بارے میں ایک رپورٹ میں کہاگیاہے کہ یہ واقعہ اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے تاجروں کو درپیش عدم تحفظ اور امتیازی سلوک کی عکاسی کرتا ہے جنہیں ہراساں کرنا اور شک کی نگاہ سے دیکھنا ایک معمول بن چکا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نئی دہلی میں قائم ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی رپورٹ میں ضلع بنکورہ کے ایک45 سالہ فیری والے اکبر علی مونڈل کے قتل کا جائزہ لیا گیا جسے رواں ماہ کے شروع میں ایک پڑوسی ضلع میں گھریلو سامان فروخت کرنے کے دوران پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مونڈل کا سامنا ایک ایسے گاہک سے ہوا جو بغیر ادائیگی کے سامان لے گیا۔ تفتیش کاروں نے بتایا کہ یہ شخص بعد میں لاٹھی لے کر واپس آیا اور پیٹ پیٹ کر فیری والے کوقتل کردیا اورلاش کومویشیوں کے شیڈ میں چھپادیا۔پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کر لیا ہے جس کی شناخت بسوناتھ مہاتو کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ جائے وقوعہ پر ایک خاتون کی طرف سے ریکارڈ کی گئی حملے کی ویڈیو جاری تحقیقات کا حصہ ہے۔فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے کہا کہ مقامی لوگوں کے ساتھ بات چیت سے علاقے سے باہر کے مسلمان فیری والوں اور تاجروں کے حوالے سے عدم اعتماد کی گہری فضا کا اشارہ ملتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی رہائشی مسلمان فیری والوں خاص طور پر پڑوسی مسلم اکثریتی علاقوں سے آنے والوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کے ساتھ مقامی دکانداروں سے مختلف سلوک کرتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہت سے مسلمان فیری والوں نے بڑھتے ہوئے حفاظتی خدشات کی وجہ سے علاقے میں آنا چھوڑ دیا ہے یا اپنے آبائی گاو¿ں واپس چلے گئے ہیں۔ مقتول کے اہلخانہ کو خدشہ ہے کہ حملے میں مذہب کا کردار ہوسکتا ہے۔ ان کے بیٹے ذوالفقار علی منڈل نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ ہو سکتا ہے کہ ان کے والد کو اس لیے نشانہ بنایا گیا ہو کیونکہ وہ باہر کا مسلمان فیری والا تھا۔ مقتول کی بیوہ نے انہیں ایک محنتی آدمی قرار دیا جس کی کوئی جانی دشمنی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنا واحد کفیل کھو دیا ہے۔اے پی سی آر نے کہا کہ یہ قتل فیری والے مسلمان تاجروں کو درپیش خطرات کو اجاگر کرتا ہے جن کے پاس ادارہ جاتی تحفظ اور معاشی تحفظ نہیں ہے۔ رپورٹ میں کہاگیاکہ اس طرح کے واقعات پوری برادری کو اپنی روایتی معاشی سرگرمیاں جاری رکھنے سے روک سکتے ہیں۔تنظیم نے منصفانہ اور شواہد پر مبنی تحقیقات، گواہوں کے تحفظ اور ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ رپورٹ میں حکام سے مطالبہ کیاگیا کہ وہ متاثرہ خاندان کو مالی امداد، طویل المدت روزی روٹی کے حصول میں سہولت اور تعلیمی امداد فراہم کریں۔





