مغربی بنگال : ”بی جے پی “حکومت نے اقلیتی امور ، مدارس کے بجٹ میں بھاری کٹوتی کردی

کولکتہ: بھارتی ریاست مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتاپارٹی ( بی جے پی ) حکومت نے اپنے پہلے ہی بجٹ میں اقلیتی امور اور مدرسہ تعلیم کے شعبے کیلئے مختص رقم میں نمایاں کمی کر دی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ہندو توا حکومت نے اقلیتی محکمے کا بجٹ 62فیصد سے زائدکم کر دیا ہے ۔ وزیر خزانہ سواپن داس گپتا نے پیر 22جون کو مالی سال 2026.27کیلئے 4لاکھ 38ہزار کروڑ روپے کا بجٹ پیش کرتے ہوئے اقلیتی امور اور مدرسہ تعلیم کیلئے محکمے کیلئے 2ہزار 165کروڑ روپے مختص کیے ۔ اس کے مقابلے میں سابق ترنمول کانگریس حکومت نے اس شعبے کیلئے 5ہزار 713کروڑ روپے مختص کیے تھے ۔ محکمہ کے قیام کے بعد اقلیتی فلاح و بہبور کیلئے یہ سب سے بڑی بجٹ کٹوٹیوں میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے ۔
یہ کمی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب بی جے پی نے رواں برس مئی میں متنازعہ انتخابات کے بعد ممتا بنر جی کی زیر قیادت ترنمول کانگریس کی پندرہ سالہ حکومت کا خاتمہ کیا تھا ۔ قبل ازیں ترنمول کانگریس نے فروری میں 4لاکھ 6ہزار کروڑ روپے کا ووٹ آن اکاﺅنٹ بجٹ پیش کیا تھا ۔






