بھارت

بھارت :مسلم پرسنل لاءبورڈ کامسلم دشمن اقدامات کے خلاف ملک گیر مہم چلانے کا اعلان

نئی دہلی: بھارت میں مسلم پرسنل لاءبورڈ نے مسلمانوں پر بڑھتے ہوئے مظالم کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے جن میں ہجومی تشدد، مساجد کو مسمار کرنا، بلڈوزر کارروائیاں اور آئینی اور مذہبی حقوق پر حملے شامل ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آل انڈیا مسلم پرسنل لا ءبورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) نے ایک جامع دستاویز شائع کرنے کا بھی فیصلہ کیا جس میں ملک بھر میں مسلمانوں کی بگڑتی ہوئی حالت، بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تفصیل دی جائے گی۔ تنظیم نے کہا کہ اس مہم کا مقصد رائے عامہ کو متحرک کرنا اور بھارتی معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑناہے۔یہ فیصلے بورڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں کئے گئے اور اس کا اعلان تنظیم کے ترجمان ڈاکٹر ایس کیو آر الیاس نے نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے بھار ت میں مسلمانوں کو درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعدد قراردادیں منظور کیں۔بورڈ نے کہا کہ مجوزہ تحریک میں مسلمانوں کے خلاف ہجومی تشدد کے واقعات، مساجد، مدرسوں اور مسلمان محلوں کو مسمار کرنے، بلڈوزر کارروائیوں، ہندو قوم پرست گانے وندے ماترم کو لازمی بنانے کی کوششوں، بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ اور تاریخی کمال مولا مسجد سے متعلق حالیہ عدالتی فیصلے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ایگزیکٹیو کمیٹی نے تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں مسلمانوں کی جانوں، املاک، عبادت گاہوں،بنیادی حقوق اور یہاں تک کہ ان کے مذہب پرمسلسل حملے ہو رہے ہیں۔بورڈ نے اعلان کیا کہ وہ فرقہ وارانہ کشیدگی اور آئینی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ایک تفصیلی رپورٹ تیار کرے گا جس میں یہ واضح کیاجائے گاکہ اقلیتوں کے حقوق کی پامالی بھارت کے جمہوری ڈھانچے، سماجی ہم آہنگی اور ترقی کے لیے خطرہ ہے۔ایگزیکٹو کمیٹی نے کمال مولا مسجد کیس میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے تاریخی ریکارڈ، سرکاری دستاویزات اور اس مقام پر صدیوں پرانی مسلمانوں کی عبادت کو نظر انداز کیا ہے۔ وندے ماترم کے معاملے پر بورڈ نے کہا کہ گانے کو لازمی قرار دینا بھارتی آئین کے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہے جو مذہب کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ تنظیم نے یکساں سول کوڈ کی مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اتراکھنڈ اور گجرات کے بعد آسام، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر میں بھی اسی طرح کی قانون سازی کی جارہی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button