مودی کے بھارت کا گائو موتر سے چکن گونیا کے مکمل علاج کا دعوی
نئی دلی:
بھار ت میںہندو توامودی حکومت کے دورکے دوران اکثر حیرت انگیز اور عجیب خبریں سامنے آتی رہتی ہیں جنہیں جان کر انسانی عقل دنگ اور بھارتیوں کی جہالت پر افسوس کرنے کا دل کرتا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ایسی ہی ایک مثال بھارتی نشریاتی اداراے این ڈی ٹی وی نے شائع کی ہے جس میں بظاہر پڑھے لکھے مگر شدت پسند بھارتی اپنے مذہبی عقائد کو سائنس کے ذریعے ثابت کرنے پر تلے نظر آ رہے ہیں۔انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی رورکی کے محققین نے ایک تحقیق میں دعویٰ کیا ہے کہ گائو موتر میں موجود بعض حیاتیاتی مرکبات چکن گونیا وائرس کے خلاف موثر ثابت ہوئے ہیں، یہ تحقیق سائنسی جریدے ایگریکلچر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں شائع ہوئی ہے۔تحقیق کے مطابق لیبارٹری میں چکن گونیا وائرس سے متاثرہ خلیات پر تجربات کے دوران گائو موتر کی 2 فیصد مقدار سے وائرس کی سطح میں تقریبا 90 فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ 4فیصد مقدار کے استعمال سے وائرس میں 99 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔محققین نے کیمیائی تجزیے اور کمپیوٹر ماڈلنگ کے ذریعے معلوم کیا کہ بینزوئک تیزاب ، ہپیورک تیزاب اور اولیئک تیزاب ایسے مرکبات ہیں جو وائرس کی افزائش کے لیے ضروری سیلز کو متاثر کر سکتے ہیں۔تحقیق میں گا موتر کو کلونجی سے حاصل ہونے والے تھائموکوئنون اور کالی مرچ سے حاصل ہونے والے پائپرین کے ساتھ ملا کر بھی آزمایا گیا۔اس مرکب نے لیبارٹری کے ماحول میں 99.85 فیصد وائرس ختم کرنے کی صلاحیت ظاہر کی۔بھارتی تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ نتائج مستقبل میں کم لاگت اینٹی وائرل ادویات کی تیاری کے لیے بنیاد فراہم کر سکتے ہیں تاہم انسانی استعمال سے قبل مزید طبی آزمائشیں ضروری ہیں۔بھارتی ماہرین نے دعوی کیا ہے کہ اس تحقیق کی بنیاد پر چکن گونیا کے علاج کے لیے گا موتر استعمال کرنے کی سفارش نہیں کی گئی اور نہ ہی اسے موجودہ طبی علاج کا متبادل قرار دیا گیا ہے۔





