مقبوضہ جموں و کشمیر

کشتواڑ : بھارتی فوجیوں کاپولیس اسٹیشن پر دھاوا ، اہلکاروں پر تشدد ، توڑ پھوڑ

سرینگر: بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں وکشمیر میںبھارتی فوج کے اہلکاروں نے ضلع کشتواڑ میں ایک پولیس اسٹیشن پر دھاوا بولا، پولیس اہلکاروں پرتشدد کیا اور سامان کو نقصان پہنچایا، جس سے مقبوضہ علاقے میں تعینات قابض افواج کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ظاہرہوتی ہے ۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 24 جون کو 17 راشٹریہ رائفلزکے 30 سے 40 اہلکاروں نے پولیس اسٹیشن اتھولی میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی۔ لاٹھیوں، لوہے کی سلاخوں اور اسلحہ سے لیس اہلکاروں نے اعلی افسران سمیت پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا اور تشددکانشانہ بنایا ۔ایس ایچ او، ایس ڈی پی او اتھولی وجے کمار بھگت اور ایس پی او سریش کمار سمیت کئی اہلکار فوجیوں کے تشدد سے زخمی ہوگئے۔ حملہ آور فوجیوں نے سرکاری گاڑیوں کے علاوہ تھانے کے مین گیٹ کو بھی نقصان پہنچا۔اس واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، ڈیفنس پی آر او جموں لیفٹیننٹ کرنل سنیل بارٹوال نے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔
دریں اثنا، پولیس نے میجر وکاس شرما، نائب صوبیدار شنکر گورکھے، جی ڈی راج کمار، سپاہی راہول کمار، سپاہی انوپ سنگھ اور سپاہی اومکار انگلے سمیت متعددبھارتی فوجی اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ یہ مقدمہ بھارتیہ نیا سنہتا ، شہری تحفظ سنہتااور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے سے متعلق مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے، جس میں قتل کی کوشش، فسادات، غیر قانونی اجتماع، سرکاری ملازمین پر حملہ، مجرمانہ دھمکیاں اور توڑ پھوڑ کے الزامات شامل ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق اس تصادم کی وجہ مبینہ طور پر پولیس کی طرف سے ایک فوجی گاڑی کو روکا جاناہے۔مقبوضہ کشمیر میں پولیس اور فوج یاپیراملٹری اہلکاروںکے درمیان تصادم کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ماضی میں بھی ایسے کئی واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں ۔جنوری 2018 میں شوپیاں کے گنوپورہ گائوں میں پتھرائو کرنے والے ہجوم پر فوج کی فائرنگ سے تین عام شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ پولیس نے 10گڑھوال رائفلز کے اہلکاروں اور میجر آدتیہ کے خلاف قتل اور اقدامِ قتل کامقدمہ درج کیا تھا۔تاہم بھارتی سپریم کورٹ نے اس واقعے جء تحقیقات پر روک لگا دی تھی۔2017میں گاندربل میں امرناتھ یاترا کی ڈیوٹی کے دوران پولیس اہلکاروں اور فوج کے درمیان سڑک پر تنازع ہوا تھا۔فوجی اہلکاروں نے ایک پولیس چوکی پر حملہ کر کے پولیس اہلکاروں کو زد و کوب کیا تھا، جس کے بعد پولیس نے سخت احتجاج کیا تھا۔وادی کے مختلف حصوں میں ماضی میں کئی مرتبہ ایسے واقعات رونماہو چکے ہیں جب تلاشی مہم یا ناکوں پر شناختی دستاویزات کی جانچ کے دوران پولیس اور فوجی اہلکاروں کے درمیان تلخیاں پیدا ہوئیں، جنھیں دور کرنے کیلئے اعلی حکام کومداخلت کر ناپڑی ۔انسانی حقوق کے ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب بھی قابض فورسز کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کیا ، تو آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ جیسے کالے قوانین کے تحت حاصل استثنی کی وجہ سے فوجیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاسکی ۔افسپا کے تحت کسی بھی فوجی اہلکار پر عام عدالت میں مقدمہ چلانے کے لیے بھارتی وزارتِ دفاع سے پیشگی منظوری حاصل کرنا لازمی ہے، جو کہ شاذ و نادر ہی ملتی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button