مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں و کشمیر: بھارت جدوجہد آزادی کو دبانے کیلئے تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، رپورٹ

جنوری 1989 سے اب تک 96ہزار 4سو 98کشمیری شہید

اسلام آباد : بھارت جموں وکشمیر پر اپنے غیر قانونی تسلط کو طول دینے اور حق خود ارادیت کے حصول کی کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے کے لیے بڑے پیمانے پر جسمانی اور نفسیاتی تشدد کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے آج” تشدد کے متاثرین کی حمایت “کے عالمی دن پر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کے دوران جنوری 1989 سے اب تک 96ہزار 4سو 98کشمیریوں کو شہید کیا جن میں سے 7ہزار 4سو 19کو دوران حراست یاجعلی مقابلوں میں شہید کیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اس عرصے کے دوران 1لاکھ 81ہزار ،1سو 21افراد کو گرفتار کیا گیا جنہیں کارگو، ہرینواس ، پاپا ون اور پاپا ٹو جیسے بدنام زمانہ تعذیب خانوں میںوحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ سن2000سے اب تک 97ہزار 44کشمیریوںکو گولیاں ، پیلٹ اور آنسو گیس کے گولے مار کر زخمی کیا گیا ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بزرگ حریت قیادت سید علی گیلانی، محمد اشرف صحرائی ، الطاف احمد شاہ دوران حراست شہادت کا مرتبہ پاگئے جبکہ معروف آزادی پسند رہنما محمد مقبول بٹ کو تختہ دار پر چڑھایا گیا ۔کے ایم ایس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اگست 2019میں 370اور 35اے دفعات کی منسوخی کے بعد سے اب تک 29ہزار 4سو90 سے زائد کشمیریوں کو حراست میں لیکر جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
جنوری 2001 سے اب تک فوجیوں اورپیرا ملٹری اہلکاروں کے ہاتھوں 689 خواتین شہید ہو چکی ہیں جبکہ بیسیوں خواتین کوحراست میں لیکر ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی، میاں عبدالقیوم، ڈاکٹر حمید فیاض، نعیم احمد خان، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، ایاز محمد اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار، مشتاق الاسلام، ،، بلال صدیقی، مولوی بشیر عرفانی، نور محمد فیاض،، حیات احمد بٹ، فیاض حسین جعفری، شوکت حکیم، ظفر اکبر بٹ، ، ایڈووکیٹ زاہد علی، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، رفیق احمد گنائی،، عمر عادل ڈار، سلیم ننہ جی، محمد یاسین بٹ،فاروق احمد توحیدی،غلام محمد خان سوپوری، انسانی حقوق کے علمبردار خرم پرویز، صحافی ، عرفان معراج سمیت تین ہزار سے زائد کشمیری مختلف جیلوں میں بند ہیں۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی زندگی 05 اگست 2019 کے بعد سے جہنم بن چکی ہے جب بی جے پی کی بھارتی حکومت نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کر دی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت نے جموںوکشمیر پر اپنے غیر قانونی تسلط کو برقرا ر رکھنے کیلئے علاقے میں 10لاکھ سے زائد فورسز اہلکار تعینات کررکھے ہیں اور علاقے اس وقت دنیا کا سب سے بڑا فوجی تعیناتی والا خطہ مانا جاتا ہے۔ 5 اگست 2019 سے اب تک 29ہزار 4سو90 سے زائد کشمیریوں کو حراست میں لیکر کیمپوں اور تھانوں میں جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا گیاجبکہ 2ہزار 4سو 95کشمیریوں کو طاقت کے وحشیانہ استعمال سے زخمی کیا گیا۔
رپورٹ میں عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ پر زور دیا گیا کہ وہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں جاری وحشیانہ بھارتی مظالم کا نوٹس لیں اور کشمیریوں کو بھارتی تسلط سے نجات دلانے کیلئے کردار ادا کریں

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button