پاکستان

بھارت جنگ کے بیج بونے سے گریز کرے:اسحاق ڈار

آبی حقوق میں کمی کی کوشش کی گئی تو سنگین اثرات ہوں گے

اسلام آباد: نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہاہے کہ سرحد پارسے بہنے والے دریاو¿ں سے متعلق کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کو کمزور کرنے یا سبوتاڑ کرنے کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے، کیونکہ بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کی خلاف ورزی صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی نظام، ریاستوں کی ساکھ، باہمی اعتماد اور علاقائی امن و سلامتی کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کی اہمیت، آبی وسائل کے تحفظ اور علاقائی تعاون سے متعلق بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بھارت پر زور دیا کہ وہ جنگ کے بیج بونے سے گریز کرے اور تمام تصفیہ طلب مسائل مذاکرات اورسفارت کاری کے ذریعے حل کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان کے حصے کے پانی کا رخ موڑنے، فراہمی روکنے یا آبی حقوق میں کمی کی کوشش کی گئی تو اس کے جنوبی ایشیا کے امن و سلامتی پر انتہائی سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان امن، مذاکرات، بین الاقوامی قانون، معاہدوں پر عمل درآمد اور اچھے ہمسائیگی کے تعلقات میں یقین رکھتا ہے اور خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ان کا کہنا تھا کہ سرحد پار بہنے والے دریاو¿ں سے متعلق کسی بین الاقوامی معاہدے کو کمزور کرنے یا اسے سبوتاڑ کرنے کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے، بین الاقوامی قانون و معاہدوں کی خلاف ورزی کی جائے تو اس سے بین الاقوامی تعلقات میں ایک خطرناک مثال قائم ہوتی ہے۔یہ ریاستوں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے اور ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کی بنیادوں کو متزلزل کر دیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ عالمی نظام بھی کمزور ہوتا ہے جو قوانین کی بالادستی پر قائم ہے اور جس پر بین الاقوامی امن و سلامتی کا انحصار ہے، پاکستان کے لیے یہ کوئی نظریاتی یا محض قانونی بحث نہیں ہے۔پانی پاکستان کے 25 کروڑ سے زائد شہریوں کی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، ہماری زراعت، غذائی تحفظ، توانائی کی پیداوار اور مجموعی معاشی ترقی کا انحصار ان تین مغربی دریاو¿ں کے مسلسل اور بلا تعطل بہاو¿ پر ہے۔اسی لیے ان دریاو¿ں اور ان کے پانی کا تحفظ پاکستان کے لیے ایک نہایت اہم قومی مفاد اور قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ بھارت کو یہ مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ وہ جنگ کے بیج بونے سے گریز کرے اور جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کو خطرے میں نہ ڈالے۔اس خطے میں پائیدار امن کا راستہ طاقت یا دھمکی نہیں بلکہ تمام تصفیہ طلب مسائل کو مذاکرات، سفارت کاری اور ان معاہدہ جاتی طریق کار کے ذریعے حل ہے، پاکستان ہمیشہ سے انہی اصولوں پر کاربند رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔کیونکہ ہمارا یقین ہے کہ دیرپا امن صرف باہمی احترام، ریاستی خودمختاری کی برابری اور بین الاقوامی ذمہ داریوں پر دیانت داری سے عمل درآمد کے ذریعے ہی قائم ہو سکتا ہے اگر پاکستان کو سندھ طاس معاہدے کے تحت حاصل اس کے جائز اور قانونی آبی حقوق سے محروم کرنے کی کوئی کوشش کی گئی تو اس کے جنوبی ایشیا کے امن و سلامتی پر انتہائی سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button