کابل میں بھارتی سفارت خانہ ویزاکا دھندا چلا رہا ہے جوافغانوں کوویزے بیچ رہا ہے

اسلام آباد: کابل میں بھارتی سفارت خانے پر سنگین الزامات لگے ہیں کہ وہ بڑے پیمانے پر ویزا ریکیٹ میں ملوث ہے جو مقامی ایجنٹوں کے ذریعے افغان شہریوں کو 3,100 سے 4,100 امریکی ڈالرزکے عوض قلیل مدتی سنگل انٹری بھارتی ویزے فروخت کر رہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جب سے بھارت نے گزشتہ سال افغانستان میں ویزا سروس شروع کی ہے، ویزا ایجنٹس نے بھارتی سفارتخانے کے اہلکاروں کے ساتھ قریبی روابط استوار کیے ہیں۔ویزا ایجنٹس کے واٹس ایپ گروپ سے لیک ہونے والے پیغامات سے واضح ہوتا ہے کہ تین سے چھ ماہ کے لیے مختلف زمروں کے ویزے کھلے عام فروخت کیے جا رہے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مریضوں، طلباءاور تاجروں کو ویزے جاری کرنے کی آڑ میں بھارت جان بوجھ کر غیر تصدیق شدہ اور زیادہ خطرہ والے افغان شہریوں کو اپنی سرزمین میں داخل ہونے کی اجازت دے رہا ہے۔ اس بے قابو آمد کو پاکستان اور خطے میں پراکسی جنگ کے لیے اپنے اثاثے بنانے کے لیے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ویزا ریکیٹ نے نہ صرف بھارتی وزارت خارجہ میںگہرائی تک پھیلی ہوئی بدعنوانی کو بے نقاب کیا ہے بلکہ سخت سرحدی حفاظت اور جانچ کے طریقہ کار کے بھارت کے دعووں پر بھی سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔اس ناجائز انٹری کے ذریعے بھارت مبینہ طور پر خطے کو غیر مستحکم کرنے کے لیے اپنی سرپرستی میں ایجنٹوں کاایک نیٹ ورک بنا رہا ہے۔






