جموں کی این آئی اے عدالت کی طرف سے شبیر شاہ کی ضمانت کی درخواستیں مسترد
شبیر شاہ کی عدالتی تحویل میں 14جولائی کی توسیع کردی

جموں:غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی جموں کی خصوصی عدالت نے 1996کے ایک جھوٹے مقدمے میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما شبیر احمد شاہ کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے ان کی عدالتی تحویل میں 14جولائی تک توسیع کرد ی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، شبیر احمد شاہ نے جو اس وقت جموں کی کوٹ بھلوال جیل میں نظربند ہیں این آئی اے کی جموں خصوصی عدالت کے جج پریم ساگر کی کورٹ میں اپنی نظربندی کے خلاف 1996کے جھوٹے سرینگر تشدد کیس میں ضمانت کی دو درخواستیں دائر کی تھیں۔ان کے خلاف یہ جھوٹا مقدمہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یو اے پی اے” اور آرمس ایکٹ کی دفعہ 7اور 27کے تحت درج کیا گیا تھا۔ ایڈووکیٹ تنویر احمد خان شبیر شاہ کی طرف سے عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے موکل کی بے گناہی اور ضمانت کیلئے دلائل دئے۔دونوں اطراف کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے شبیر شاہ کی ضمانت کی درخواست قبل از وقت قراردیتے ہوئے مسترد کردی۔ عدالت نے موقف اختیار کیاکہ ابھی مقدمے کی تفتیش جاری ہے اور چارج شیٹ دائر ہونے تک ضمانت نہیں دی جاسکتی ۔شبیر شاہ کو جیل سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالت پیش کیا گیا۔ عدالت نے شبیر شاہ کو جموں کی کوٹ بھلوال جیل میں رکھنے کی ہدایت کے ساتھ انکی عدالتی تحویل میں 14جولائی تک توسیع کر دی ۔






