شبیر احمد شاہ کی مسلسل غیر قانونی نظربندی اور بگڑتی صحت پر ڈی ایف پی کی شدید تشویش

سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی خصوصی عدالت کی جانب سے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما شبیر احمد شاہ کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کیے جانے اور ان کی مسلسل بگڑتی ہوئی صحت پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈی ایف پی کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر غلام رسول نے ایک بیان میں کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے شبیر احمد شاہ کی ضمانت کی راہ ہموار کرتے ہوئے متعلقہ عدالتی کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی، لیکن اس عدالتی پیش رفت کی روح کے برعکس انہیں فوری رہائی دینے کے بجائے نئی دہلی سے جموں منتقل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے بلکہ ایک شدید علیل سیاسی رہنما کے ساتھ غیر انسانی سلوک کی بھی عکاسی کرتا ہے، جس کی صحت مسلسل تشویشناک حد تک گرتی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ شبیر احمد شاہ پروسٹیٹ کینسر سمیت متعدد عوارض میں مبتلا ہیں اور معالجین نے ان کی صحت کے پیش نظر طویل سفر کو نامناسب قرار دیا تھا۔ اس کے باوجود انہیں غیر ضروری سفری مشقت سے گزارا گیا، جبکہ جیل میں بھی انہیں مناسب طبی سہولیات، ماہر ڈاکٹروں تک رسائی اور بروقت علاج فراہم نہیں کیا جا رہا، جو نہ صرف جیل قوانین بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں اور قیدیوں سے متعلق عالمی معیارات کی صریح خلاف ورزی ہے۔ڈاکٹر غلام رسول نے کہا کہ شبیر احمد شاہ گزشتہ 39 برس سے زائد عرصے سے قید و بند، سیاسی انتقام اور شدید جسمانی و ذہنی اذیت کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم اس طویل اسیری کے باوجود ان کے عزم، استقلال اور حقِ خودارادیت کے اصولی موقف میں کوئی کمزوری نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ شبیر احمد شاہ کی بے مثال قربانیاں کشمیری عوام کی آزادی، وقار اور انصاف پر مبنی جدوجہد کی روشن علامت ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی اپنے قائد کے اصولی موقف اور کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ طاقت، ظلم و جبر، سیاسی انتقام، غیر قانونی نظربندیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے ذریعے نہ کشمیری عوام کے عزم کو شکست دی جا سکتی ہے اور نہ ہی جموں و کشمیر کے تنازعے کو دبایا جا سکتا ہے۔






