مقبوضہ جموں وکشمیر : بی جے پی کے مطالبے پر محکمہ تعلیم کے 8 افسران معطل

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے”پرسنلٹیز اینڈ لیجنڈز آف جموں وکشمیر“ نامیکتاب اسکول لائبریریوں کے لئے منظورکرنے اور خریدنے پر محکمہ تعلیمکے آٹھ عہدیداروںکو معطل کر دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ کارروائی محکمہ تعلیم کی جانب سے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں کتاب کی شمولیت پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کے اعتراض اور متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کے مطالبے کے چند گھنٹے بعد کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کتاب کا حصول سب کمیٹی کے ممبران اور سپروائزری افسران کی طرف سے سنگین غفلت کانتیجہ تھا جنہوں نے انتہائی نامناسب مواد کے باوجود کتاب کی سفارش کی۔حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ مختلف اسکولوں کے لیے کتابوں کا جائزہ لینے اور تجویز کرنے کے لیے جموں اور کشمیر ڈویژنوں کے ماہرین تعلیم پر مشتمل ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں۔ کمیٹیوں نے 364 پبلشرز کی طرف سے جمع کرائی گئی 63 کتابوں کو منتخب کیا۔ تاہم دو کتابوں میں قابل اعتراض مواد پایا گیا تھا اور محکمے نے 3 جولائی کوان کا انتخاب واپس لے لیا تھا۔حکم نامے کے مطابق پہلی کتاب کی 123 کاپیاں جموں، رامبن اور ادھم پور اضلاع کے اسکولوں کو فراہم کی گئی تھیں، جبکہ دوسری کتاب کی 128 کاپیاں جموں اور بارہمولہ کے اضلاع میں تقسیم کی گئی تھیں۔اس کے پیش نظر انتظامیہنے 8 عہدیداروں کو فوری طور پر معطل کر دیاہے۔





