بھارت :دہلی ہائی کورٹ کا اطہر خان کو ضمانت دینے سے انکار

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج میں شرکت کرنے والے اطہر خان کو 2020 کے دہلی فسادات کیس میں ضمانت دینے سے انکارکردیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جسٹس پرتھیبا ایم سنگھ اور جسٹس مدھو جین پر مشتمل ڈویڑن بنچ نے محفوظ گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر ان کی ضمانت مسترد کرنے کے ٹرائل کورٹ کے 29 جنوری کے حکم کو برقرار رکھا۔چاند باغ کے رہنے والے اطہر خان نے 2 جولائی 2026 کو جیل میں چھ سال مکمل کیے ۔ انہیں دہلی پولیس نے 2 جولائی 2020 کو گرفتار کیا تھا اور تب سے وہ کالے قانون ”یواے پی اے “کے تحت نظربندہیں۔ان کے وکیل نے ضمانت کی درخواست دی تھی۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کاکہنا ہے کہ بغیر کسی مقدمے کے اطہر خان کی مسلسل چھ سال کی نظربندی مرضی کے انصاف کی عکاسی کرتی ہے، جہاں یو اے پی اے کے تحت درج مقدمات میں مسلمان کارکنوں کو طویل نظر بندی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور عدلیہ الزامات کے تعین میں جان بوجھ کر تاخیر کررہی ہے، جس سے عدلیہ کے مساوی سلوک اورغیر جانبداری پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔







